کولکاتا میں محرم کے جلوسوں کے لیے سخت ہدایات، ہتھیاروں کی نمائش، ڈی جے اور بلند تعزیوں پر پابندی

Wait 5 sec.

کولکاتا: محرم الحرام کے موقع پر امن و امان، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کولکاتا پولیس نے سخت رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس سال محرم کے جلوسوں میں کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی نمائش کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ڈی جے کے استعمال اور ضرورت سے زیادہ بلند تعزیوں کے نکالنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق اس سلسلے میں تمام متعلقہ تھانوں کو تفصیلی ہدایات ارسال کر دی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شہر میں امن، بھائی چارے اور قانون و انتظام کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے مقصد سے کیے گئے ہیں۔ آئندہ جمعہ کو کولکاتا سمیت پورے مغربی بنگال میں محرم کے جلوس نکالے جائیں گے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے پہلے ہی حفاظتی تیاریوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق مختلف تھانوں کے ذمہ دار افسران اور اعلیٰ پولیس حکام کے درمیان متعدد اجلاس منعقد ہوئے، جن میں جلوسوں کے انتظامات، سکیورٹی اور ضابطوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ کسی نئے جلوس کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ صرف وہی جلوس نکالے جا سکیں گے جو برسوں سے روایتی طور پر منعقد ہوتے آ رہے ہیں۔مظفر نگر میں محرم کے جلوس کے دوران لال کپڑے سے چھپا دیا گیا شیو چوک، پولیس کی سخت سیکورٹیپولیس نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ جلوسوں میں کسی بھی قسم کے ہتھیار یا ان سے مشابہ اشیا کی نمائش مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔ تعزیوں کی اونچائی کے بارے میں خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہیں حد سے زیادہ بلند نہ بنایا جائے تاکہ بجلی کی تاروں، مواصلاتی کیبلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ رہے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اسی طرح جلوسوں میں ڈی جے کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اگر کسی مقام پر مائیک یا صوتی نظام استعمال کیا جاتا ہے تو اسے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ صوتی حدود کے اندر رکھنا ہوگا۔ پولیس نے منتظمین کو ہدایت دی ہے کہ شور کی آلودگی سے بچنے کے لیے تمام ضوابط کی سختی سے پابندی کی جائے۔محرم سے متعلق چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی پابندیاں معطل، ہائی کورٹ کا عبوری حکمانتظامیہ نے حساس یا اشتعال انگیز نعروں، پیغامات اور سرگرمیوں سے گریز کی بھی تلقین کی ہے۔ پولیس حکام کو ایسے معاملات پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال کو بروقت روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے جلوسوں کے منتظمین کے ساتھ ملاقاتیں بھی کی جا رہی ہیں اور انہیں تمام قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق جن راستوں سے محرم کے جلوس گزریں گے وہاں اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔ نگرانی کے خصوصی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ پورے پروگرام کے دوران امن، بھائی چارے اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔