لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیلی قبضے کو دوام دینے کی کوشش ہے اور حزب اللہ اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا تک اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔بی بی سی اردو کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتا ہے اور اسرائیل کو مقبوضہ لبنانی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ فریم ورک کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی دستاویز پر عمل درآمد ہونا چاہیے، جس میں لبنان میں جنگ بندی اور مقررہ مدت کے اندر اسرائیلی افواج کے انخلا کی ضمانت دی گئی تھی۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کو حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کرنا نہایت خطرناک تجویز ہے۔ ان کے بقول ایسا فارمولا نہ صرف اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرے گا بلکہ مستقبل میں لبنانی علاقوں کے الحاق کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمتی دستاویز میں لبنان کے خلاف جنگ بندی اور ساٹھ دن کے اندر اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی کی ضمانت شامل تھی، جبکہ موجودہ معاہدے کے نتیجے میں لبنان اپنی سفارتی برتری اور مزاحمتی قوت سے محروم ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔شیخ نعیم قاسم نے اس معاہدے کو "ذلت آمیز"، "شرمناک" اور "لبنان کی خودمختاری کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف" قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک اپنی مزاحمتی کارروائیاں جاری رکھے گی اور کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جو لبنان کے مفادات کے خلاف ہو۔ادھر لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ میں ایک اسرائیلی ڈرون حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر دستخط کے صرف ایک دن بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی تھی۔ تازہ حملے نے جنگ بندی کے مستقبل اور سرحدی علاقوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان کی صورت حال مشرق وسطیٰ میں جاری سفارتی کوششوں کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے اور ایران، امریکہ، لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی پیش رفت آنے والے دنوں میں خطے کی سلامتی اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔