برلن / میلان : یورپی ممالک اس وقت قیامت خیز گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہیں، جہاں جرمنی، ڈنمارک، جمہوریہ چیک اور سوئٹزرلینڈ سمیت کئی ممالک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو گئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز یورپ کے شمالی اور وسطی علاقوں میں بعض مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا، متعدد ممالک میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔جرمنی، ڈنمارک اور جمہوریہ چیک میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے ابتدائی ریکارڈ رپورٹ ہوئے، جبکہ سوئٹزر لینڈ میں جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ قائم ہوا۔جرمنی کے محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ریاست سیکسونی انہالٹ کے علاقے موکرن ڈریوٹز میں درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو ایک روز قبل قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے، ڈنمارک میں 1874 سے جاری موسمی ریکارڈ کے دوران پہلی بار درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔فرانس میں گرمی کی لہر کے باعث درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ شدید درجہ حرارت نے ریلوے نظام، بجلی کی پیداوار اور دیگر عوامی خدمات کو بھی متاثر کیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل اور بیرونی تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں۔اٹلی کی وزارت صحت نے میلان، روم، ٹورین، وینس، فلورنس اور جینوا سمیت 18 شہروں میں ہفتہ اور اتوار کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے دریا پو میں پانی کی سطح نمایاں حد تک کم ہو گئی ہے، جس سے زرعی شعبے اور مقامی ماحولیاتی نظام کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی موسمی صورتحال "اومیگا بلاک” نامی فضائی نظام کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس میں گرم ہوا کا ایک بڑا دباؤ طویل عرصے تک کسی خطے پر برقرار رہتا ہے اور درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔موسمیاتی اداروں نے پیش گوئی کی ہے کہ ہفتے کے اختتام اور آئندہ چند روز کے دوران بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے، جس سے گرمی کی شدت میں جزوی کمی آسکتی ہے۔