سعودی عرب نے مملکت میں داخلے کے وقت سونے، کیش اور جیولری لے جانے اور لانے کے لیے نئے منی لانڈرنگ ضوابط متعارف کروادیے ہیں۔سعودی عرب نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے سخت ضوابط متعارف کرائے ہیں جن کے تحت مملکت میں داخل ہونے والے یا وہاں سے جانے والے مسافروں کے لیے 40,000 سعودی ریال (10,700 ڈالر) یا اس سے زائد مالیت کے سونے کے بسکٹ، قیمتی دھاتیں، جواہرات اور زیورات ظاہر کرنا (ڈیکلیئر کرنا) لازمی ہوگا اس سے قبل یہ حد 60,000 سعودی ریال تھی۔اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے اپ ڈیٹ شدہ قواعد کے مطابق مسافروں کو ایک تحریری کسٹمز ڈیکلریشن جمع کرانا ہوگا اور اشیاء کی مالیت کی تصدیق کے لیے خریداری کا ثبوت، جیسے کہ انوائس (بل) فراہم کرنا ہوگا۔اعکاظ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہاں حکام کو یہ معلوم ہوگا کہ یہ سامان تجارتی مقاصد کے لیے لایا گیا ہے وہاں یونیفائیڈ کسٹمز قانون کی دفعات لاگو ہوں گی۔یہ ضوابط زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی (ZATCA) کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ غیر اعلانیہ نقد رقم، قیمتی دھاتیں، دیگر قیمتی اشیا یا ان اثاثوں کو جن کے بارے میں مالیاتی جرائم سے منسلک ہونے کا شبہ ہو، 72 گھنٹوں تک ضبط کر سکتی ہے۔ منی لانڈرنگ کے مشتبہ معاملات کو پبلک پراسیکیوشن (سرکاری استغاثہ) اور فنانشل انویسٹی گیشن کے جنرل ڈیپارٹمنٹ کو بھیجنا لازمی ہوگا۔پہلی مرتبہ کی خلاف ورزیوں پر، ن میں منی لانڈرنگ کا شبہ نہ ہو، غیر اعلانیہ اثاثوں کی مالیت کا 10 فیصد سے 25 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جائے گا، جو بار بار جرم کرنے کی صورت میں 50 فیصد تک بڑھ جائے گا۔ منی لانڈرنگ یا اس سے جڑے دیگر جرائم کے مشتبہ معاملات کو مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے پاس بھیجا جائے گا۔Latest International News and Breaking News from ARY Newsان اپ ڈیٹ شدہ ضوابط میں مالیاتی جرائم سے نمٹنے کے لیے خطرے پر مبنی ایک وسیع تر طریقہ کار (risk-based approach) بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت مالیاتی اداروں اور مخصوص غیر مالیاتی کاروباروں اور پیشہ ور افراد کے لیے لازمی ہے کہ وہ باقاعدگی سے منی لانڈرنگ کے خطرات کا جائزہ لیں، جس میں گاہکوں، مصنوعات، خدمات، کام کرنے والے ممالک، ترسیل کے ذرائع اور لین دین کے طریقہ کار کا احاطہ کیا جائے۔اداروں کے لیے ان جائزوں کو دستاویز کی شکل میں محفوظ رکھنا اور انہیں باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرنا لازمی ہوگا جبکہ اکاؤنٹس کھولنے یا مخصوص مالیاتی لین دین کرنے سے پہلے گاہکوں کی شناخت اصل مالکان (beneficial ownership)، فنڈز کے ذرائع اور کاروباری تعلقات کے مقصد کی تصدیق کر کے کسٹمر ڈیو ڈیلیجنس (ضروری جانچ پڑتال) کو مضبوط بنانا ہوگا۔ان ضوابط میں سیاسی طور پر بااثر شخصیات (PEPs) ان کے خاندان کے ارکان اور قریبی ساتھیوں کے لیے مزید سخت جانچ پڑتال کی شرائط بھی رکھی گئی ہیں، جس میں مخصوص کاروباری تعلقات قائم کرنے سے پہلے اعلیٰ انتظامیہ سے منظوری حاصل کرنا اور دولت و فنڈز کے ذرائع کی اضافی جانچ پڑتال شامل ہے۔ان ترامیم کے ذریعے فنانشل انویسٹی گیشن کے جنرل ڈیپارٹمنٹ کے اختیارات میں توسیع کی گئی ہے، جس سے وہ رپورٹس کا تجزیہ کرنے، اضافی معلومات طلب کرنے، ملکی اور بین الاقوامی ہم منصبوں کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ کرنے، مشتبہ لین دین کو سات ورکنگ ڈیز (کام کے دنوں) تک معطل کرنے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات سے منسلک اثاثوں کو احتیاطی طور پر منجمد کرنے کی درخواست کرنے کا مجاز ہوگا۔