رام مندر عطیات تنازعہ: کانگریس نے وزیر اعظم مودی کی خاموشی پر اٹھائے سوال، ٹرسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: رام مندر عطیات تنازعہ پر کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کے بجائے اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے ارکان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، تاکہ وہ جانچ اور شواہد پر اثر انداز نہ ہو سکیں، اور پورے معاملے کی نگرانی سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج سے کرائی جائے۔کانگریس کے ترجمان اکھلیش پرتاپ سنگھ نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر میں صرف نچلے درجے کے ملازمین کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹرسٹ کے بااثر افراد کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو شواہد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔اکھلیش پرتاپ سنگھ نے کہا کہ اس تنازعہ کے بعد ملک بھر کے عوام اور بھگوان شری رام کے عقیدت مندوں کا ٹرسٹ پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے، اس لیے اسے فوری طور پر تحلیل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ زمین کی خرید و فروخت، تعمیراتی کاموں میں مبینہ کمیشن، سونے اور چاندی کی اینٹوں، زیورات اور عطیات کی رقم سے متعلق سنگین بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اپنی پسند کے افراد کو ٹرسٹ میں شامل کیا تھا، اس لیے جب انہی افراد پر سنگین الزامات عائد ہو رہے ہیں تو وزیر اعظم کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق جن لوگوں کو کروڑوں عقیدت مندوں کے اعتماد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات پر حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔کانگریس ترجمان نے کہا کہ 2019 میں عدالتی فیصلے کے بعد مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوئی اور 2020 میں مرکزی حکومت نے ٹرسٹ تشکیل دیا، لیکن اس کے بعد مختلف مراحل پر بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ زمین کے سودوں میں بے قاعدگیوں کی جانچ کا اعلان تو کیا گیا، مگر اس کا کوئی واضح نتیجہ آج تک سامنے نہیں آیا۔انہوں نے حالیہ میڈیا رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نقد عطیات گننے والے ایجنٹ مہیپال سنگھ کو [معاملہ سامنے لانے پر ہٹا دیا گیا، جبکہ نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حذف کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے نے کسی بڑی بے ضابطگی سے انکار کیا، لیکن بعد میں ٹرسٹ کے ایک سینئر رکن نے اسے بدعنوانی نہیں بلکہ ڈکیتی قرار دیا۔ اکھلیش پرتاپ سنگھ نے مزید کہا کہ چمپت رائے اور انل مشرا کے استعفوں سے متعلق خبروں اور بعد ازاں ان کی تردید نے بھی پورے معاملے پر مزید شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔