امریکا سے اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ

Wait 5 sec.

بروسلز (28 جون 2026): ہند رجب فاؤنڈیشن (ایچ آر ایف) نے امریکی محکمۂ انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے خلاف جنگی جرائم، نسل کشی اور نسل کشی پر اکسانے کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔بیلجیم میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا کہ یہ درخواست بن گویر کی 7 اور 8 جولائی کو نیویارک آمد سے قبل جمع کرائی گئی ہے۔فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ 2025 اور 2026 میں غزہ جانے والے امدادی بحری قافلوں (فلوٹیلا) کے شرکا، جن میں امریکی شہری بھی شامل تھے، اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں اغوا کے بعد تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنے۔تنظیم کے مطابق فلسطینی زیرِ حراست افراد کو بھوک، تشدد، ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لگانے، نیند سے محروم رکھنے، طبی سہولتوں سے محروم کرنے، جنسی تشدد اور دیگر اقسام کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔امریکا کی مسلسل دوسرے روز ایران پر بمباریفاؤنڈیشن نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اکتوبر 2023 سے اگست 2025 کے درمیان اسرائیلی جیلوں میں حراست کے دوران کم از کم 46 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ایچ آر ایف نے بن گویر پر ان مبینہ جرائم کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے امریکی محکمۂ انصاف سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی باقاعدہ فوجداری تحقیقات شروع کی جائیں، بن گویر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں یا تحقیقات مکمل ہونے تک انھیں امریکا چھوڑنے سے روکا جائے، اور امریکی قوانین کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔درخواست میں امریکی ’’وار کرائمز ایکٹ‘‘ اور ’’جینوسائیڈ اسٹیچوٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بن گویر پر تشدد، غیر انسانی سلوک، قتل، زیادتی، جنسی تشدد، نسل کشی اور نسل کشی پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکا میں ایچ آر ایف کے نمائندے جیک روم نے کہا کہ واشنگٹن پر کارروائی کرنا لازم ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ان الزامات میں امریکی شہریوں سے مبینہ بدسلوکی بھی شامل ہے۔ جیک روم نے کہا دنیا کے ہر ملک، بشمول امریکا، پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بن گویر کو گرفتار کرے اور ان کے مبینہ جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لائے۔فاؤنڈیشن کے مطابق یہ درخواست غزہ میں مبینہ بین الاقوامی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مختلف ممالک کے ملکی قوانین کے تحت کارروائی کرانے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اکسانے پر گزشتہ سال آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، ناروے اور برطانیہ نے اتمار بن گویر پر پابندیاں عائد کی تھیں۔