ریاض (28 جون 2026): سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بحرین پر ایرانی ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین پر حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔قطری وزارت خارجہ نے بھی حملوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل کی کوششیں جاری رکھیں۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بحرین کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار ہے، ایران اور امریکا ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، امریکی فوج نے ایران میں فضائی کارروائی کی، متعدد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون داغ دیےسینٹکام کے مطابق ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ ڈرون حملہ کر دیا اور پاناما کے آئل ٹینکر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی حملے کے وقت 20 لاکھ بیرل تیل سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب تھا۔امریکی کارروائی ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے جواب میں کی گئی، جس میں ایرانی فوج کے نگرانی کے نظام، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرونز اور بارودی سرنگوں کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔امریکی کارروائی کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ اور فضائیہ نے کویت میں علی السالم ایئربیس اور بحرین میں پورٹ سلمان پر موجود امریکی بحری بیڑے پر میزائل اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے دشمن کی جارحیت کا جواب تباہ کن ردعمل کے ساتھ دیا جائے گا۔ بلا اجازت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔