امریکا کی مسلسل دوسرے روز ایران پر بمباری

Wait 5 sec.

واشنگٹن (28 جون 2026): امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران پر بمباری کی ہے، جس میں سیریک، بندرِ لنگہ اور جزیرۂ قشم کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملے کے بعد کی گئی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران میں 10 اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔U.S. Navy and Air Force fighter jets conducted strikes tonight on 10 Iranian military targets at multiple locations in and near the Strait of Hormuz for Iran's drone attack on M/T Kiku. pic.twitter.com/Z0TLZRqmF6— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 28, 2026 سینٹکام نے کہا کہ ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ ڈرون حملہ کر دیا، ایرانی ڈرون نے پاناما کے آئل ٹینکر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی حملے کے وقت 20 لاکھ بیرل تیل سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب تھا۔ایران کے خلاف جنگ سے سب سے زیادہ فائدہ کس نے اٹھایا؟ الجزیرہ کی رپورٹ جاریسینٹکام کے مطابق ایران کے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے جواب میں کارروائی کی گئی، جس میں ایرانی فوج کے نگرانی کے نظام، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے ڈرون اور بارودی سرنگوں کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے، اور امریکی افواج مکمل طور پر چوکس اور جوابی کارروائی کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔صدر ٹرمپ کی دھمکیدوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ ’’فوجی کارروائی کے ذریعے کام مکمل کر دیں گے۔‘‘انھوں نے کہا امریکی طیاروں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ایران کے میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا، حملوں میں میزائل ذخیرہ گاہیں اورساحلی ریڈار سائٹس ہدف بنیں۔ امریکی صدر نے ایران کو مزید سخت فوجی کارروائی کی وارننگ دے دی اور کہا ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی مکمل کی جائے گی، اگر سبق نہ سیکھا تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔