ایران اور امریکا میں آج ہونے والے مذاکرات معطل

Wait 5 sec.

ایران اور امریکا میں آج ہونے والے مذاکرات معطل ہو گئے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران میں رواں ہفتے پیر سے شیڈول مذاکرات معطل ہو گئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا تازہ حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پیر کو سوئٹزرلینڈ میں شیڈول ٹیکنیکل کمیٹیوں کے مذاکرات معطل کر دیے گئے۔ ایران نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں موجود امریکی افواج پر حملے کیے ہیں، اور مزید حملوں کی صورت میں ’’تباہ کن جواب‘‘ دینے کی وارننگ دی ہے۔پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ بحرین اور کویت میں 8 امریکی تنصیبات پر ایران نے میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا، ایرانی نیوی اور ایئرو اسپیس فورس نے مشترکہ طور پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور یہ حملہ ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔پاسداران انقلاب کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی امریکا نے کی اور یہ مفاہمتی یادداشت کی شق 1 کے منافی ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے بغیر اجازت گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی مزید سخت ہوگی، اور اس کے نتیجے میں تمام سفارتی عمل مکمل طور پر روک دیا جائے گا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران میں 10 اہداف پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔سینٹکام نے کہا کہ ایران کو سنگاپور کے تجارتی جہاز پر حملے کے بعد معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا لیکن ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یک طرفہ ڈرون حملہ کر دیا، ایرانی ڈرون نے پاناما کے آئل ٹینکر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی حملے کے وقت 20 لاکھ بیرل تیل سے بھرا ٹینکر آبنائے ہرمز کے قریب تھا۔