انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف جاری تیسرے ٹیسٹ کے دوران بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ اعلان ایک مشکل ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے، جب لندن کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے اسٹوکس دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ 35 سالہ اسٹوکس نے ٹرنٹ برج میں تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے چوتھے دن کے کھیل سے پہلے ٹیم کے ساتھیوں کو اپنے فیصلے کے بارے میں بتایا۔ اسٹوکس میچ کے آخری 2 دن کھیلیں گے اور پھر اس کیریئر کو الوداع کہہ دیں گے جس نے انگلینڈ کو کرکٹ کے کئی یادگار لمحات دیے ہیں۔جذباتی اسٹوکس نے چوتھے دن کا کھیل شروع ہونے سے قبل ٹیم سے بات کی اور سب سے پورے جوش کے ساتھ میچ ختم کرنے کو کہا۔ انگلینڈ کرکٹ کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں اسٹوکس نے کہا کہ ’’وجوہات بعد میں بتائی جا سکتی ہیں، لیکن میں نے اس ٹیم، آپ لوگوں اور مجھ سے پہلے کھیلنے والوں کے لیے کئی مشکل دور دیکھے ہیں۔ مجھے ایک اور مشکل دور سے گزرنا ہے۔ میں بس یہی چاہتا ہوں کہ ہر کوئی ایسا ہی کرے۔ ہمیں ابھی بہت محنت کرنی ہے۔ میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ نتیجہ چاہے جو بھی ہو، جب ہم میدان سے باہر نکلیں تو ہمیں معلوم ہو کہ اس گروپ نے گزشتہ 2 دنوں میں اپنا سب کچھ جھونک دیا۔ میں بس یہی چاہتا ہوں کہ ہر کوئی نہ صرف میرے لیے، بلکہ ٹیم کے لیے بھی پوری کوشش کرے۔ میں نے اپنے جذبات کو سنبھال لیا ہے۔ اب کام پر لگنے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘One of England's all-time greatest captains, Ben Stokes, has decided to retire from international cricket at the end of this Test match.Ben, you have been the most inspirational captain, leader and legend this team could have ever hoped for. We love you so much and wish you… pic.twitter.com/U5grq0F0kj— England Cricket (@englandcricket) June 28, 2026انگلینڈ کرکٹ نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’انگلینڈ کے اب تک کے سب سے عظیم کپتانوں میں سے ایک، بین اسٹوکس نے اس ٹیسٹ میچ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین، آپ اس ٹیم کے لیے سب سے زیادہ متاثر کن کپتان، لیڈر اور لیجنڈ رہے ہیں، جس کی ٹیم کبھی امید کر سکتی تھی۔ ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے لیے آپ کو نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔ انگلینڈ اب کبھی ویسا نہیں رہے گا۔‘‘واضح رہے کہ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نائٹ کرفیو توڑنے اور کلب تنازعہ میں ملوث ہونے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیلے تھے، جس کے بعد انہیں کپتانی سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ ٹیم سے باہر کرنے کی باتیں چل رہی تھیں۔ تبھی سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اسٹوکس جلد ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں۔ ٹرنٹ برج میں انگلینڈ کی کپتانی سنبھالنے کے لیے واپسی سے قبل، اسٹوکس نے صرف اس ہفتے ٹیم کی کپتانی کرنے کی بات کہی تھی، جس سے آگے کیا ہونے والا ہے، اس کا اشارہ مل گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ اسٹوکس انگلینڈ کے سب سے بہترین میچ ونر میں سے ایک کے طور پر بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت لے رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف 2019 کے سنسنی خیز فائنل میں ناٹ آؤٹ 84 رنز کی اننگ کھیل کر انہوں نے انگلینڈ کو اس کا پہلا ونڈے ورلڈ کپ خطاب دلایا تھا۔ 6 ہفتے بعد، ہیڈنگلے میں ان کی شاندار ناٹ آؤٹ 135 رنز کی اننگ نے آسٹریلیا کے خلاف ایشیز کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک کی بنیاد رکھی۔ وہ ٹی-20 ورلڈ کپ 2022 میں انگلینڈ کی جیت میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔بین اسٹوکس نے 122 ٹیسٹ، 114 ونڈے اور 43 ٹی-20 بین الاقوامی مقابلے کھیلے ہیں۔ اس میچ سے پہلے تک، اسٹوکس نے ٹیسٹ میچوں میں 7228 رنز بنائے اور 246 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب ونڈے میں ان کے نام 3463 رنز اور 74 وکٹیں درج ہیں۔ ٹی-20 میں اسٹوکس نے 585 رنز بنائے اور 26 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اسٹوکس کی کپتانی میں انگلینڈ نے 44 ٹیسٹ میچوں میں سے 24 میں کامیابی حاصل کی ہے۔