واشنگٹن : امریکہ میں مقیم لاکھوں تارکین وطن کے لیے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے، ان سے کہا گیا ہے کہ وہ یہاں مستقل رہائش حاصل کریں یا پھر واپس چلے جائیں۔اس حوالے سے امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سیکریٹری مارک وین مولن نے اپنے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ عارضی طور پر مقیم تارکین وطن یا تو مستقل امریکی قانونی رہائش حاصل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں یا پھر اپنے آبائی ممالک روانہ ہوجائیں۔امریکی نیوز چینل سی این این کے پروگرام ’اسٹیٹ آف دی یونین‘میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عارضی حیثیت کا حامل ہونا مستقل رہائش کا متبادل نہیں ہے، اس لیے ایسے افراد کو اپنے قیام کی مستقل قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں مارک وین مولن نے بتایا کہ حکومت ایسے تارکین وطن کو ان کے ملک واپسی میں مدد فراہم کرے گی، ہوائی ٹکٹ کے علاوہ تقریباً 2100 ڈالر بھی دے گی تاکہ وہ واپس جا کر بہتر طریقے سے دوبارہ اپنی زندگی کا آغاز کرسکیں۔رپورٹ کے مطابق یہ بیان امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ہیٹی اور شامی تارکین وطن سے عارضی تحفظ کی حیثیت واپس لینے کی اجازت دے دی تھی، یہ حیثیت انہیں اپنے ممالک میں جاری جنگ، بدامنی اور انسانی بحران کے باعث بے دخلی سے تحفظ فراہم کرتی تھی۔امریکی قانون کے مطابق حکومت جنگ، قدرتی آفات یا دیگر غیر معمولی حالات کے باعث مختلف ممالک سے آنے والے افراد کو عارضی قانونی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔یاد رہے کہ ہیٹی کے شہریوں کو 2010 کے تباہ کن زلزلے کے بعد جبکہ شامی شہریوں کو 2012 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔گرین کارڈ کیسے حاصل کریں؟ امریکا نے طریقہ سخت کر دیا