اے آئی انڈسٹری کو بڑا جھٹکا، گوگل میٹا کی طلب پوری کیوں نہ کرسکا؟

Wait 5 sec.

کیلیفورنیا : مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی صنعت میں بڑھتی ہوئی طلب اور انفرااسٹرکچر پر دباؤ کے باعث گوگل نے مبینہ طور پر میٹا کی جیمینائی اے آئی ماڈلز تک رسائی محدود کر دی۔میٹا نے گوگل سے اپنی مصنوعی ذہانت منصوبوں کے لیے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی درخواست کی تھی، تاہم گوگل اس طلب کو مکمل طور پر پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل نے رواں سال مارچ کے قریب میٹا کو آگاہ کیا تھا کہ وہ کمپنی کی جانب سے طلب کردہ کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ذرائع کے مطابق کمپیوٹنگ وسائل کی اس کمی نے میٹا کے متعدد داخلی منصوبوں کو متاثر کیا ہے، جس کے بعد فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے آئی ٹوکنز کے استعمال کو زیادہ مؤثر اور محتاط بنائیں۔ اے آئی ٹوکنز وہ یونٹس ہوتے ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کی مقدار ناپی جاتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال مصنوعی ذہانت کی صنعت کو درپیش بڑھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور کمپیوٹنگ وسائل کی قلت کو نمایاں کرتی ہے۔ماہرین کے مطابق جدید اے آئی ماڈلز کو چلانے اور تربیت دینے کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت میں مسلسل اضافے کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اے آئی کی دوڑ میں صرف جدید ماڈلز ہی نہیں بلکہ انہیں چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکا ہے۔دوسری جانب گوگل اور میٹا نے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے جبکہ برطانوی خبر رساں ادارہ رائٹرز بھی اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔