مسلم پرسنل لا بورڈ کا ملک گیر تحریک کا اعلان، یکساں سول کوڈ اور وندے ماترم کے معاملے پر تشویش

Wait 5 sec.

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک اور مسلم برادری کی موجودہ صورتحال پر غور کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے بعد جاری پریس نوٹ میں کہا گیا کہ مسلمانوں کی جان و مال، مذہبی مقامات، پرسنل لا اور آئینی حقوق کو درپیش مسائل پر گہری تشویش پائی جاتی ہے اور ملک میں نفرت اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔بورڈ نے کہا کہ بعض ریاستوں میں ہجوم کے تشدد، مساجد اور مدارس کے خلاف کارروائیوں، بلڈوزر مہم، وندے ماترم کو لازمی بنانے کی کوششوں اور یکساں سول ضابطہ کے نفاذ کے اقدامات نے مسلم برادری میں بے چینی پیدا کی ہے۔ بورڈ کے مطابق ان مسائل پر کئی سیکولر سیاسی جماعتوں کی خاموشی بھی باعث تشویش ہے۔مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ مسلم برادری کی صورتحال، فرقہ وارانہ کشیدگی اور بنیادی حقوق سے متعلق ایک تفصیلی دستاویز تیار کرکے شائع کی جائے گی، تاکہ جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں پر یقین رکھنے والے افراد کی توجہ ان مسائل کی جانب مبذول کرائی جا سکے۔’نفرت، تقسیم اور عدمِ تحفظ کا ماحول ملک کے مستقبل کے لیے خطرناک‘، جمعیۃ علماء ہند نے پیش کیا اپنا موقفاجلاس میں کمال مولہ مسجد اور بھوج شالہ معاملے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ بورڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخی دستاویزات اور عبادت گاہوں سے متعلق قانون انیس سو اکیانوے کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ بورڈ نے کمال مولہ مسجد کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر عرضی کا خیر مقدم کرتے ہوئے قانونی جدوجہد میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔بورڈ نے وندے ماترم کو لازمی بنانے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی حکومت یا کوئی ریاستی حکومت اسے تمام شہریوں یا طلبہ کے لیے لازمی قرار دیتی ہے تو اس کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ مغربی بنگال میں اسکولوں اور امدادی مدارس میں وندے ماترم کو لازمی بنانے کے فیصلے کو بھی بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا گیا اور کلکتہ ہائی کورٹ کے عبوری حکم کا خیر مقدم کیا گیا۔وندے ماترم کو لازمی بنانا مذہبی آزادی پر حملہ، حکومت فیصلہ واپس لے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈمجلس عاملہ نے اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد دیگر ریاستوں میں یکساں سول ضابطہ نافذ کرنے کی تیاریوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے قوانین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ اجلاس میں مسلمانوں کے حقوق، آئینی تحفظات، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی مقامات سے متعلق مسائل پر ملک گیر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اجلاس کی صدارت بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی جبکہ کارروائی کی نظامت جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے انجام دی۔ اجلاس میں مولانا ارشد مدنی، اسد الدین اویسی، سید سعادت اللہ حسینی سمیت بورڈ کے متعدد ارکان اور عہدے دار شریک ہوئے۔