امریکی عدالت سے اڈانی کو جھٹکا، جج نے محکمۂ انصاف سے طلب کی مقدمہ واپس لینے کی وجہ

Wait 5 sec.

امریکہ میں اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کو ایک اہم قانونی جھٹکا اس وقت لگا جب وفاقی عدالت نے ان کے خلاف دائر فوجداری مقدمے کو فوری طور پر خارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے امریکی محکمۂ انصاف سے مقدمہ واپس لینے کی وجوہات کی تفصیلی وضاحت طلب کر لی۔ عدالت نے کہا ہے کہ صرف مختصر بیان کی بنیاد پر مقدمہ ختم نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے واضح قانونی بنیاد پیش کرنا ضروری ہے۔نیو یارک کے مشرقی ضلع کی وفاقی عدالت کے جج نکولس گرافیس نے اپنے حکم میں کہا کہ محکمۂ انصاف کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف نہایت مختصر اور غیر تسلی بخش ہے، جس کی بنیاد پر عدالت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکتی۔ عدالت نے محکمۂ انصاف کو ہدایت دی ہے کہ وہ 13 جولائی تک تحریری طور پر یہ واضح کرے کہ مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیوں کیا گیا۔گزشتہ ماہ امریکی محکمۂ انصاف نے اعلان کیا تھا کہ وہ گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف جاری فوجداری کارروائی کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہتا۔ اس کے بعد اڈانی کی قانونی ٹیم نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ مقدمہ باضابطہ طور پر خارج کر دیا جائے، تاہم عدالت نے اس درخواست پر فوری فیصلہ دینے سے انکار کر دیا۔دنیا میں پہلی بار ’اے آئی چیٹ بوٹ‘ نے عدالت میں انسانی وکیل کو شکست دے کر جیتا 8.79 لاکھ روپے کا کیسگوتم اڈانی کے خلاف 2024 میں دائر کیے گئے مقدمے میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اڈانی گروپ کی ایک ذیلی کمپنی نے ہندوستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے سرکاری حکام کو رشوت دینے کی مبینہ سازش کی۔ استغاثہ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ کمپنی نے امریکی سرمایہ کاروں کو بدعنوانی کے انسداد سے متعلق اپنی پالیسیوں اور کاروباری طریقۂ کار کے بارے میں گمراہ کن یقین دہانیاں فراہم کیں۔ادھر امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے فیصلے کے بعد مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا کہ اگر مقدمہ ختم کر دیا جائے تو اڈانی گروپ امریکہ میں تقریباً دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا کرے گا۔ تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔یاد رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اس مقدمے پر مزید وقت اور وسائل صرف نہیں کرنا چاہتا، لیکن عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایسے اہم مقدمات میں صرف ایک مختصر بیان کافی نہیں ہوتا۔ عدالت نے کہا کہ مقدمہ واپس لینے کی قانونی وجوہات اور متعلقہ حقائق مکمل طور پر پیش کیے جائیں تاکہ عدالتی کارروائی شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔اب اس مقدمے کی آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکی محکمۂ انصاف 13 جولائی تک عدالت کے سامنے کیا تفصیلی مؤقف پیش کرتا ہے اور آیا عدالت اس وضاحت سے مطمئن ہوتی ہے یا نہیں۔