رام مندر عطیات تنازعہ کے درمیان چمپت رائے اور انل مشرا مستعفی، ٹرسٹ نے کی تصدیق

Wait 5 sec.

ایودھیا میں رام مندر کے عطیات سے متعلق تنازعہ کے درمیان شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ نے اپنے سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا کے استعفوں کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ ٹرسٹ کی جانب سے جاری پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے استعفے موصول ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مندر کے عطیات سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملے کی جانچ جاری ہے۔ٹرسٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ واقعات سے وہ شدید صدمے اور دکھ کی کیفیت میں ہے اور رام بھکتوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے منصفانہ اور شفاف جانچ کو یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ اس معاملے میں تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور عقیدت مندوں کا اعتماد برقرار رہے۔پریس بیان میں ان عقیدت مندوں کو بھی اطمینان دلایا گیا ہے جنہوں نے چاندی کی اینٹیں، سونے کے زیورات یا دیگر قیمتی اشیا شری رام کی خدمت کے لیے ٹرسٹ کے ذمہ داران کے حوالے کی تھیں۔ ٹرسٹ کے مطابق یہ تمام اشیا مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کا مکمل حساب کتاب موجود ہے۔ٹرسٹ نے مزید بتایا کہ عطیات سے متعلق معاملے میں اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی عبوری رپورٹ کی بنیاد پر اس کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سزا دلانے کی کوشش کی جائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض سماج دشمن، مذہب مخالف اور ذاتی مفاد رکھنے والے عناصر اس تنازعہ کی آڑ میں سناتن دھرم کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرسٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے پھیلائی جانے والی بے بنیاد افواہوں پر یقین نہ کریں اور صرف مصدقہ معلومات پر اعتماد کریں۔