مشہور کار ساز کمپنی کا ایک لاکھ ملازمین نکالنے کا فیصلہ

Wait 5 sec.

برلن : مشہور جرمن کار ساز کمپنی ووکس ویگن نے دنیا بھر سے ایک لاکھ ملازمین نکالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بڑے ڈاؤن سائزنگ منصوبے کی تیاری کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق جرمنی کی مشہورِ زمانہ کار ساز کمپنی ووکس ویگن شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی، جس کے بعد کمپنی نے دنیا بھر سے اپنے 1 لاکھ ملازمین کو برطرف کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ووکس ویگن کے سی ای او اولیور بلوم نے کمپنی کی تاریخ کے اس سب سے بڑے ڈاؤن سائزنگ منصوبے کی تیاری کر لی ہے۔جرمن میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ووکس ویگن کو اس وقت شدید کاروباری خسارے اور عالمی مارکیٹ میں چینی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے یہ تاریخی بحران پیدا ہوا۔کمپنی نے اپنے ہی ملک جرمنی میں موجود 4 بڑے مینوفیکچرنگ پلانٹس کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے جرمن معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔بدلتے ہوئے معاشی حالات کے پیشِ نظر کار ساز کمپنی نے آئندہ 5 سالوں کے دوران اپنے سرمایہ کاری بجٹ میں 15 فیصد کمی کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفی کی خبریں اور خفیہ دستاویزات سامنے آنے پر ووکس ویگن کی اعلیٰ انتظامیہ نے براہِ راست تبصرہ کرنے سے تو انکار کر دیا ہے، تاہم کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں بقا کے لیے کمپنی کے ڈھانچے میں اتنی بڑی اور سخت تبدیلیاں اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔دوسری جانب جرمن لیبر یونینز نے ووکس ویگن انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف اکھٹے ہونا شروع کر دیا ہے اور فیکٹریوں کی بندش سمیت ملازمین کی برطرفی کے اقدامات کی شدید مخالفت کا اعلان کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں کمپنی اور ورکرز کے درمیان بڑا تنازع کھڑا ہونے کا خدشہ ہے۔