کیلیفورنیا : کیا جاپان، کیلیفورنیا اور وینزویلا میں آنے والے زلزلے آپس میں جڑے ہوئے ہیں؟ اس حوالے سے ماہرینِ ارضیات کی اصل حقیقت بتادی۔تفصیلات کے مطاق جاپان، کیلیفورنیا اور وینزویلا میں چند گھنٹوں کے دوران آنے والے طاقتور زلزلوں نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ زمین کے سب سے زیادہ فعال زلزلیاتی اور آتش فشانی زون ‘رنگ آف فائر’ کی طرف مبذول کروا دی۔اگرچہ یہ زلزلے ایک دوسرے سے ہزاروں کلومیٹر دور آئے، لیکن ان میں سے دو زلزلے اسی خطرناک پٹی کا حصہ ہیں۔‘رنگ آف فائر’ کیا ہے اور یہ کہاں ہے؟ماہرینِ ارضیات نے بتایا کہ رنگ آف فائر’ بحر الکاہل کے گرد پھیلا ہوا ایک گھوڑے کی نعلکی شکل کا ایک بہت بڑا زون ہے، یہ پٹی شمالی اور جنوبی امریکہ کے مغربی ساحلوں سے شروع ہو کر الاسکا، جاپان، فلپائن، انڈونیشیا اور نیوزی لینڈ تک پھیلی ہوئی ہے۔دنیا کے 75 فیصد فعال آتش فشاں اسی پٹی میں پائے جاتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ریکارڈ کیے جانے والے 90 فیصد زلزلے اسی زون میں آتے ہیں۔یہاں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟زمین کی بیرونی تہہ کئی بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں میں تقسیم ہے، جو انتہائی سست رفتاری سے حرکت کر رہی ہیں تاہم جب رنگ آف فائر کے آس پاس یہ پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں ، ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں یا رگڑ کھاتی ہیں، تو زمین کے اندر شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے۔جس کے باعث ایک دباؤ اچانک خارج ہوتا ہے، جس سے زمین لرز اٹھتی ہے جسے ہم زلزلہ کہتے ہیں، اس زون کے کئی حصے ‘سبڈکشن زونز’ ہیں، جہاں ایک پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنس جاتی ہے، جس سے بڑے زلزلے اور آتش فشاں پھٹتے ہیں۔جاپان اور کیلیفورنیا: رنگ آف فائر کے مرکز میںیہ جزیرہ نما ملک دنیا کی سب سے زیادہ فعال ٹیکٹونک حدود پر واقع ہے اور یہاں ‘پیسیفک پلیٹ’ کی مسلسل حرکت کی وجہ سے اکثر شدید زلزلے آتے ہیں، جیسا کہ 2011 کا ہولناک زلزلہ اور سونامی تھا۔کیلیفورنیا کا زلزلہ بھی پیسیفک پلیٹ سے جڑا ہے، تاہم یہاں پلیٹیں نیچے دھنسنے کے بجائے افقی طور پر ایک دوسرے سے رگڑ کھاتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ شمالی امریکہ کا سب سے زلزلہ زدہ علاقہ ہے۔وینزویلا کا زلزلہ مختلف کیوں ہے؟ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ وینزویلا ‘رنگ آف فائر’ کا حصہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ‘کیریبین ٹیکٹونک ریجن’ سے ہے جہاں کیریبین اور ساؤتھ امریکن پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔ کیا یہ زلزلے آپس میں جڑے ہیں؟اچانک پے در پے زلزلوں کے بعد عوام میں یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ چند گھنٹوں میں اتنے بڑے زلزلے آنا کسی بڑے عالمی خطرے کی نشانی ہے۔تاہم ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ زلزلے آپس میں بالکل نہیں جڑے ہوئے، زمین پر روزانہ ہزاروں زلزلے آتے ہیں اور مختلف سسٹمز آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں، اس لیے یہ محض ایک اتفاق ہے کہ یہ ایک ہی وقت میں پیش آئے۔