آپریشن سندور میں طیاروں کے بعد بھارت نے اپنے فوجیوں کی اموات بھی تسلیم کرلیں

Wait 5 sec.

سری نگر: بھارتی حکومت نے پہلی بار آپریشن سندور میں فوجی ہلاکتوں کا اعتراف کرتے ہوئے مارے گئے 6 اہلکاروں کے نام سرکاری طور پر ظاہر کر دیے۔تفصیلات کے مطابق کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے کہا گیا کہ ، بھارتی حکومت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور سچ چھپانے کی پالیسی سے پیچھے ہٹتے ہوئے پہلی بار سرکاری سطح پر اعترافِ شکست کر لیا ہے۔بھارت نے ‘آپریشن سندور’ میں مارے جانے والے اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کو تسلیم کرتے ہوئے 6 اہلکاروں کے نام سرکاری طور پر ظاہر کر دیے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت سیاسی مفادات کی خاطر طویل عرصے تک اپنے ہی فوجیوں کی قربانی اور فوجی نقصانات کو عوام سے چھپاتی رہی، تاہم فوجیوں کے ورثا کے مسلسل دباؤ اور شدید احتجاج کے بعد بالآخر مودی حکومت ان ناموں کو نیشنل وار میموریل کے ‘رول آف آنر’ میں شامل کرنے پر مجبور ہو گئی، اس اعتراف نے پاکستانی مؤقف کی سچائی پر سرکاری مہر ثبت کر دی ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے جن 6 اہلکاروں کے نام ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں صوبیدار میجر پون کمار (ان کا تعلق اسی 10 انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے ہے جسے پاکستان نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا) ، رائفل مین سنیل کمار ، لانس نائک دنیش کمار ، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائیک ، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار ( جو ادھم پور میں ہلاک ہوئے اور انہیں وایو میڈل سے نوازا گیا) شامل ہیں۔کے ایم ایس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ادھم پور میں بھارت کے جدید ترین S-400 میزائل شکن سسٹم کی بیٹری کو بھی تباہ کیا تھا، جس کی تباہی کی تردید بھارت اپنی عوام کو دھوکا دینے کے لیے کرتا رہا تاہم اب سیٹلائٹ تصاویر اور خود بھارت کے اپنے ریکارڈز تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ اہم فارورڈ بیس مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا۔اس کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس آپریشن کے دوران پاکستان نے بھارت کے انتہائی مہنگے اور جدید ترین رافیل ، میراج 2000 اور متعدد دیگر لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اب خفت مٹانے کے لیے اپنے بھاری نقصانات کو مرحلہ وار سامنے لا رہا ہے۔