مسقط (27 جون 2026): امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ٹول ٹیکس پر عمان نے تہران پلان کی تائید کر دی ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق عمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کے قواعد میں تبدیلی ہوگی، آبنائے سے متعلق جنگ سے پہلے کا نظام نہیں چل سکتا، آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد ہو سکتی ہے۔سروس فیس جہاز رانی اور آلودگی سے نمٹنے کی خدمات پر لی جائے گی، عمان بین الاقوامی بحری قوانین کی پاسداری جاری رکھے گا، اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کی خدمات پر بھی فیس لی جا سکتی ہے۔عمان اور ایران آبنائے ہرمز کے ساتھ سرحدی شراکت رکھتے ہیں، جو دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ایرانی حکومت بھی قاسم سلیمانی سے خوف زدہ تھی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰامریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات جاری رہنے کے ساتھ، تہران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اس آبنائے میں بحری ٹریفک کے انتظام کے لیے عمان کے ساتھ مشترکہ انتظامی نظام قائم کیا جائے۔کسی بھی قسم کی ٹرانزٹ فیس کی صورت میں کموڈیٹیز کے تاجروں اور شپنگ کمپنیوں کو سالانہ اربوں ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں، جب کہ امریکا، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی سمندری قانون کی خلاف ورزی ہوں گے۔زیادہ تر ممالک کا مؤقف ہے کہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یہ اصول عموماً ان دیگر اسٹریٹجک آبی راستوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو متعدد ریاستوں کے درمیان مشترکہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر آبنائے ملاکا کو انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور مشترکہ طور پر چلاتے ہیں، جہاں فیس صرف اصل نیویگیشن یا حفاظتی خدمات کے لیے وصول کی جاتی ہے۔منگل کے روز عمان نے ایران کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ شپنگ کے انتظامات اور متعلقہ اخراجات کے طریقہ کار پر بات چیت کریں گے۔ دو دن بعد، عمان نے امریکا اور خلیجی تعاون کونسل کے مشترکہ بیان میں شمولیت اختیار کی جس میں آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کے ٹیکس، فیس یا کنٹرول مسلط کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔