سیول : ایشیائی ممالک میں ‘اے آئی اسمارٹ چشموں’ کے ذریعے امتحانات میں نقل کا نیا رجحان سامنے آیا ، جو نگرانوں کے لیے پکڑنا ناممکن ہو گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی جہاں زندگی کے ہر شعبے کو بدل رہی ہے، وہی اب امتحانات میں ہائی ٹیک نقل کے لیے بھی استعمال ہونے لگی۔ایشیائی ممالک میں طلبہ کی جانب سے امتحانات کے دوران مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ چشموں کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے تعلیمی ماہرین اور حکومتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ جدید اسمارٹ چشمے دیکھنے میں بالکل عام نظر آنے والے چشموں کی طرح ہی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے امتحانی نگرانوں کے لیے انہیں عام نظر سے پکڑنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔یہ اے آئی چشمے امتحانی پرچے کی خفیہ طور پر تصویر کھینچتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے چند سیکنڈز میں اس کا درست جواب چشمے کے شیشے پر ظاہر کر دیتے ہیں، جہاں سے طالب علم آسانی سے نقل کر لیتا ہے۔جنوبی کوریا اور تائیوان کے اہم امتحانات میں اسمارٹ چشموں کے ذریعے نقل کے متعدد کیسز پکڑے گئے ہیں۔جنوبی کوریا میں انگریزی کے ایک بڑے ٹیسٹ کے دوران اے آئی چشمے استعمال کرنے والے طلبہ کو نہ صرف رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، بلکہ ان پر 4 سال تک امتحانات دینے پر سخت پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تعلیمی ماہرین اور حکومتیں سرگرم ہو چکی ہیں جبکہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ مستقبل کے تمام امتحانات میں نظر کے عام چشموں کے علاوہ ہر قسم کے الیکٹرانک اور اسمارٹ چشموں کو امتحانی ہال کے اندر لے جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔