دوحہ : ‘الجزیرہ’ نے ایران کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ جاری کر دی۔تفصیلات کے مطابق ایران کے خلاف جنگ اور خلیج میں جاری شدید کشیدگی سے سب سے زیادہ فائدہ کس نے اٹھایا؟ عالمی میڈیا نیٹ ورک ‘الجزیرہ’ نے اس حوالے سے ایک چشم کشا رپورٹ جاری کر دی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ عالمی دفاعی (ہتھیار ساز) اور توانائی کمپنیوں کو ہوا ہے، جنہوں نے ریکارڈ منافع کمایا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، خلیج میں شدید تناؤ کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 4 سال کی بلند ترین سطح 126 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اس صورتحال سے توانائی کمپنیوں کو فائدہ پہنچا۔سعودی آرامکو کمپنی کے منافع میں 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا، جس نے صرف پہلی سہ ماہی میں 32.5 ارب ڈالر کمائے، جبکہ عالمی مارکیٹ کے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی گیس کمپنیوں نے بھی اربوں ڈالرز سمیٹے۔الجزیرہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگ شروع ہوتے ہی دنیا کی سب سے بڑی ہتھیار ساز کمپنیوں کے سربراہان کا وائٹ ہاؤس میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔اس کے بعد امریکی کمپنیوں بوئنگ ، لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین کے شیئرز اور نئے ہتھیاروں کے آرڈرز میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے دفاعی فنڈنگ میں اربوں ڈالرز کا اضافہ کر دیا۔اس کے علاوہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے انشورنس چارجز اور کرایوں میں 5 گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس سے عالمی تجارت مہنگی ہو رہی ہے۔