این سی پی (شرد پوار گروپ) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کسانوں کے مسائل اٹھاتے ہوئے ریاست کی دیویندر فڑنویس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کسانوں اور خواتین کے خلاف ہے۔ ہم مسلسل ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ریاست کی حالت دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں بہت زیادہ بارش ہو رہی ہے تو کہیں پانی کی کمی سے لوگ پریشان ہیں۔ احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں پھر بھی کسی کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔سپریا سولے نے نسراپور عصمت دری اور قتل معاملے میں قصوروار بزرگ شخص کو سزائے موت دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس معاملے میں پونے پولیس کی کارروائی کی تعریف کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے ہی یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملے میں کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک تھا۔ امید یہی تھی کہ ملزم کو سزائے موت ہی ملے گی۔ ہم نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ایسے معاملات کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں ہونی چاہیے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ملزم کو سزا ضرور ملے۔ متاثرہ اور اس کے خاندان کو انصاف مل گیا ہے۔सध्या सरकारने जाहीर केलेली कर्जमाफी ही फसवी असून, महाराष्ट्रातील शेतकऱ्यांची सरसकट कर्जमाफी झाली पाहिजे, या मागणीसाठी आज छत्रपती संभाजीनगर येथे महाविकास आघाडीच्या नेतृत्वाखाली "बळीराजाच्या हक्कासाठी एल्गार... अन्नदात्याचा!" या आक्रोश मोर्चाचे आयोजन करण्यात आले होते.माननीय आमदार… pic.twitter.com/NUi2Y1AvZS— Nationalist Congress Party - Sharadchandra Pawar (@NCPspeaks) June 29, 2026دوسری جانب این سی پی (ایس پی) کی جانب سے زرعی قرضوں کی معافی کے مطالبے کو لے کر ایک بڑے مارچ کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں پارٹی لیڈران نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ مارچ کے پیش نظر بڑے پیمانے پر حفاظتی دستے تعینات کیے گئے تھے۔ پارٹی نے ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ حکومت نے حال ہی میں جس قرض معافی کا اعلان کیا ہے، وہ ایک دھوکہ ہے۔ مہاراشٹر کے کسانوں کے لیے مکمل قرض معافی نافذ کی جانی چاہیے۔ اسی مطالبے کو لے کر چھترپتی سمبھاجی نگر میں مہا وکاس اگھاڑی کی قیادت میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ رکن اسمبلی روہت پوار نے کسانوں کے حقوق کے لیے پنڈھرپور میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کی تھی۔ اس وقت تمام مظاہرین اور کسانوں کی موجودگی میں ریاستی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 22 جون کو کسانوں کی قرض معافی پر بحث ہوگی اور اس سلسلے میں مثبت فیصلہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد حکومت نے کوئی بحث نہ کر کے اور کوئی مثبت قدم نہ اٹھا کر کسانوں کو دھوکہ دیا۔این سی پی نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ جس طرح حکومت نے ’لاڈکی بہن‘ منصوبہ کے نام پر ووٹ حاصل کیا اور اقتدار میں آنے کے بعد اس منصوبے کے تحت مستفید ہونے والوں کی تعداد کم کر دی، اسی طرح اب ایک بار پھر کسانوں کی قرض معافی کا اعلان کر کے اور اس میں سخت شرائط و ضوابط نافذ کر کے، مہایوتی حکومت مستفید ہونے والوں کی تعداد کم کرنے کا گناہ کر رہی ہے۔رکن اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ ایک بڑا احتجاج ہونے والا ہے، اس میں بھاری تعداد میں کسان آئیں گے۔ کسانوں کے پہنچنے کے بعد آگے کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ این سی پی (ایس پی) کے رہنما ششی کانت شندے نے کہا کہ ہم چھترپتی سمبھاجی نگر میں زرعی قرضوں کی معافی کے مطالبے کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کسانوں کے مفاد کے بارے میں بالکل نہیں سوچ رہی ہے۔