نیویارک(7 اکتوبر 2026): امریکی سرجن نے طلاق کے تنازع پر بیوی سے عطیہ کردہ گردہ یا اس کے بدلے 15 لاکھ ڈالر واپس مانگ لیے۔یہ انوکھا واقعہ سال 2009 میں پیش آیا تھا، نیویارک کے ایک سرجن ڈاکٹر رچرڈ بتیسٹا نے اپنی تلخ طلاق کے دوران اس وقت دنیا بھر کی توجہ حاصل کی جب انہوں نے ایک انتہائی غیر معمولی اور ذاتی چیز کا معاوضہ مانگا تھا۔ یعنی وہ گردہ جو انہوں نے آٹھ سال قبل اپنی اہلیہ ڈانیل کو عطیہ کیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈانیل کے دو ناکام گردے کی پیوند کاری کے بعد جون 2001 میں ڈاکٹر رچرڈ نے اپنا ایک گردہ انہیں عطیہ کیا تھا۔جب ڈانیل نے 2005 میں طلاق کے لیے درخواست دائر کی، تو ڈاکٹر بتیسٹا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس گردے کو بھی جائیداد کی تقسیم یا تصفیے کا حصہ بنایا جائے۔انہوں نے عوامی سطح پر یا تو اپنا گردہ واپس کرنے یا تقریباً 15 لاکھ ڈالر (جو کہ ان کے وکیل کے مطابق گردے کی تخمینی مالیت تھی) ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ شادی کے خاتمے پر انہیں شدید صدمہ اور دھوکے کا احساس ہوا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی اہلیہ کی جان بچانے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔طبی ماہرینِ اخلاقیات نے اس مطالبے پر فوری طور پر واضح کیا کہ عطیہ کردہ عضو ایک تحفہ ہوتا ہے جسے نہ تو واپس لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی مالی قیمت مقرر کی جا سکتی ہے۔مزید برآں، ایک کام کرنے والے گردے کو جسم سے دوبارہ نکالنا ڈانیل کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال سکتا تھا۔ یہ انوکھا تنازع تاریخ کے سب سے عجیب و غریب طلاق کے مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔جو اب دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔