سیئول: شمالی کوریا نے تائیوان کے معاملے پر امریکا کو وارننگ دی ہے، رہنما کم جونگ اُن نے روس کی حمایت جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت اور فوجی تعاون پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا، سرکاری میڈیا کے سی این اے نے بدھ کو بتایا کہ شمالی کوریا نے واشنگٹن پر آبنائے تائیوان میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔شمالی کوریا کے بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار کم میونگ چول نے کہا کہ تائیوان کے بارے میں امریکی پالیسی خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔بیان میں تائیوان میں امریکا کے فراہم کردہ جنگی طیاروں کی موجودگی کی مذمت کی گئی، اور کہا گیا کہ امریکا کو ’’دو بار سوچنا چاہیے کہ آیا وہ تائیوان کی سلامتی کے لیے عوامی جمہوریہ چین کی طاقت ور قومی قوت کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے لیے تیار ہے اور کیا وہ اس کے نتائج سے نمٹ سکتا ہے۔‘‘امریکی فوجیوں پر کرفیو، شراب کی پابندی عائدواضح رہے کہ تائیوان نے 2019 میں 66 نئے ایف-16 وی بلاک 70 جنگی طیاروں کا آرڈر دیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ان طیاروں میں سے پہلے دو تائیوان پہنچے ہیں۔ تائیوان کو بیجنگ کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کا سامنا ہے۔ چین اس جمہوری طور پر چلنے والے جزیرے کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔دوسری جانب بدھ کے روز سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سالگرہ کے پیغام میں روس اور اس کی جنگی کوششوں کے لیے مسلسل حمایت کا عزم ظاہر کیا ہے۔کم جونگ اُن نے کہا کہ پیانگ یانگ دونوں ملکوں کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت مشترکہ تعاون کو مزید وسعت دیتا رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ روس کی خودمختاری، سلامتی کے مفادات اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے جاری ’’انصاف کی مقدس جنگ‘‘ فتح کے ساتھ ختم ہوگی۔