امریکی فوجیوں پر کرفیو، شراب کی پابندی عائد

Wait 5 sec.

ٹوکیو: قتل کے ایک واقعے کے بعد جاپان کے اوکیناوا میں امریکی فوجیوں پر کرفیو اور شراب کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔روئٹرز کے مطابق جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں تعینات امریکی فوجیوں پر ایک ماہ کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور شراب پینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔یہ اقدامات ان کی تربیت اور نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، کیوں کہ ایک امریکی میرین پر مقامی خاتون کو قتل اور لوٹنے کا الزام ہے۔20 سالہ لانس کارپورل ڈیون جیکب بالارڈ پر ہفتے کے روز جنوبی جاپان کے صوبے اوکیناوا کے دارالحکومت ناہا کے ایک ہوٹل میں 39 سالہ اینا یاگی کو قتل کرنے اور ان کا بٹوا اور بیگ لے جانے کا شبہ ہے۔ پولیس کے مطابق بالارڈ نے الزامات سے انکار کیا ہے۔کسی کو معلوم نہیں کہ ایران کو کون چلا رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپیہ واقعہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ایسے واقعات کی تازہ کڑی ہے جن کے باعث اوکیناوا میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی موجودگی پر مقامی لوگوں میں تشویش بڑھتی رہی ہے۔اوکیناوا تائیوان اور چین کے قریب واقع ہے، امریکی حکام خبردار کر چکے ہیں کہ ایسے واقعات مشرقی ایشیا کی سلامتی کے لیے اہم امریکا-جاپان تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل بینجمن واٹسن نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اوکیناوا میں امریکی فوج کی تمام سرگرمیاں 48 گھنٹے کے لیے روک دی جائیں گی، اور اس دوران فوجیوں کو نظم و ضبط اور طے شدہ معیارات سے متعلق تربیت دی جائے گی۔جاپان کی وزیر اعظم سانے تاکائچی نے ہفتے کے روز ہونے والے قتل کو ’’انتہائی وحشیانہ اور سنگین‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جاپان نے امریکا کے سامنے شدید احتجاج کیا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف ناہا اور ٹوکیو میں احتجاج بھی ہوئے ہیں۔پولیس نے اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کو بتایا کہ یاگی کی موت دم گھٹنے سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق بالارڈ نے مبینہ طور پر ان کی گردن پر دباؤ ڈالا تھا۔ہوٹل کے عملے نے ہفتے کی صبح سویرے یاگی کو ان کے کمرے میں بے ہوش پایا۔ وہ مقررہ وقت پر ہوٹل سے باہر نہیں نکلی تھیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً 200 پولیس اہلکاروں نے اس شخص کی تلاش میں حصہ لیا جسے متاثرہ خاتون کے ساتھ ہوٹل میں داخل ہوتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں میں دیکھا گیا تھا۔واضح رہے کہ جاپان میں تقریباً 18 ہزار امریکی میرینز تعینات ہیں جن میں سے زیادہ تر اوکیناوا میں ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام سے 1972 تک اوکیناوا امریکا کے زیر انتظام رہا تھا، اور اب جاپان دنیا بھر میں امریکی فوج کے بیرون ملک سب سے بڑے اڈوں میں سے ایک کی میزبانی کرتا ہے۔اوکیناوا میں امریکی فوج کی موجودگی پر مقامی آبادی میں بارہا ناراضی پیدا ہوئی ہے۔ اس کی وجوہ میں شور، طیاروں کے حادثات اور امریکی فوجی اہلکاروں کا رویہ شامل ہیں۔ 1995 میں تین امریکی فوجیوں کی جانب سے 12 سالہ اوکیناوی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔اوکیناوا اپنے قریب ترین مقام پر تائیوان سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ہے۔ ٹوکیو اور واشنگٹن اسے چین کی ممکنہ فوجی جارحیت کو روکنے کے لیے اہم خطہ سمجھتے ہیں۔