صدر سے ملاقات کے بعد انڈیا بلاک کا اعلان، ’گیانیش کمار کا استعفیٰ لے کر رہیں گے‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کے 10 ارکان پارلیمنٹ نے جمعہ کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وہ گیانیش کمار کے استعفے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن نے ووٹ چوری اور ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے صدر جمہوریہ سے مداخلت کی اپیل کی۔لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر کے سامنے متعلقہ معاملہ اٹھایا، جس پر ان سے ثبوت پیش کرنے کو کہا گیا۔ اس بیان پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے کہا کہ صدر نے ثبوت مانگے ہیں تو اپوزیشن انہیں ضرور پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹائے گی اور کئی لوگ پہلے ہی قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔دہلی میں میٹرو اسٹیشن بند کرنے کے فیصلے پر طنز کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ خوف زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتا۔ اب لوگوں کے دلوں سے ڈر نکل چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے شہریوں کے ذہنوں سے خوف ختم ہو رہا ہے اور شاید جلد ہی میڈیا بھی اس خوف سے آزاد ہو جائے گا۔کانگریس رہنما راگنی نائک نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے ملاقات اور ان کی جانب سے ووٹ چوری کے معاملے کی تردید نہ کیا جانا آج کی سب سے اہم خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے بھی اسی نکتے پر زور دیا تھا۔ راگنی نائک نے صدر جمہوریہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن سے ثبوت پیش کرنے کو کہا ہے۔ان کے مطابق، صدر سے ملاقات کرنے والا وفد ثبوت پیش کرے گا۔ اس کے علاوہ 12 اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کا ایک اور وفد اسی میمورنڈم کے ساتھ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ووٹ چوری کا معاملہ سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک اٹھاتی رہے گی۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ راہل گاندھی کی جانب سے شروع کیے گئے ستیہ گرہ کے تحت صدر جمہوریہ جیسے اعلیٰ آئینی عہدے تک پہنچ کر عرضداشت پیش کرنا جدوجہد کا ایک اور اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن یہ یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مستقبل میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کر کے اپنا موقف پیش نہیں کیا۔ عمران پرتاپ گڑھی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب تک گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے، اپوزیشن اپنی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔