اورنگ آباد : سوشل میڈیا پر گزشتہ ماہ آئی فون بوائے (کنال) کے نام سے وائرل ہونے والی خبر اور ویڈیو کا تعلق آئی فون سے نہیں تھا، اصل حقیقت نے سب کو چونکا دیا۔وائرل ہونے والے واقعے کو ابتدا میں آئی فون اور اس کی اقساط سے جوڑ کر 18 سالہ نوجوان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم سامنے آنے والی اصل تفصیلات نے واقعے کے پس منظر کو یکسر بدل دیا ہے۔تازہ ترین دستیاب معلومات کے مطابق نوجوان کنال مِرلی دھر ایک ذہین طالب علم تھا جو ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا اور امتحانات کی تیاری کررہا تھا۔آئی فون کے لیے والدین سے جھگڑے کی کہانی کیسے بنی؟21 اگست 2026 کو کنال معمول کے مطابق صبح کوچنگ کے لیے گھر سے نکلا، تاہم وہ کلاس میں نہیں پہنچا۔ بعد ازاں اس کی والدہ کو اطلاع ملی کہ کنال کوچنگ نہیں آیا۔ ایک دوست نے بھی بتایا کہ اسے کنال کا پیغام موصول ہوا ہے، جس کے بعد والدین نے تشویش میں اسے تلاش کرنا شروع کیا۔بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق واقعے کی اصل وجہ کنال کے والدین کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی تھی۔ اس دوران مقامی افراد کو مراٹھی زبان میں ہونے والی گفتگو کی مکمل سمجھ نہ آنے کے باعث یہ تاثر پیدا ہوا کہ کنال آئی فون خریدنے یا اس کی اقساط کے معاملے پر اصرار کررہا تھا، یوں سوشل میڈیا پر یہ تاثر تیزی سے پھیل گیا کہ نوجوان نے آئی فون کے لیے اپنے والدین کو پریشان کیا۔تاہم دستیاب بیان کے مطابق کنال کے پاس پہلے ہی فون موجود تھا اور اس کی والدہ کے پاس بھی آئی فون تھا۔ اس لیے واقعے کو محض آئی فون کے حصول سے جوڑنا درست تصویر پیش نہیں کرتا۔بھائی کی موت نے بھی خاندان کو ہلا کر رکھ دیا تھاکنال کے خاندانی پس منظر میں بھی کئی تکلیف دہ واقعات رونما ہوچکے تھے، اس کے بڑے بھائی کپِل کی تقریباً 9 یا 10 سال کی عمر میں بیماری کے باعث موت ہوگئی تھی۔اس سانحے کے بعد گھر میں تناؤ بڑھا اور والدین کے تعلقات بھی متاثر ہوئے، کنال والدین کی واحد اولاد رہ گیا تھا اور اس کے ساتھ ان کی وابستگی مزید گہری ہوگئی تھی۔رپورٹ کے مطابق والد مِرلی دھر طویل عرصے تک اپنے خاندان سے دور رہے، تاہم بعد میں بعض خاندانی حالات کے باعث ان کا اپنے والد اور بہن بھائیوں سے دوبارہ رابطہ قائم ہوگیا۔ اسی دوران خاندان میں مزید ایک المناک موت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔گھریلو اختلافات نے کنال کو زیادہ ڈسٹرب کیادستیاب معلومات کے مطابق والد کے اپنے خاندان سے دوبارہ قریب ہونے کے بعد اس کے والدین کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید شدت اختیار کرگئے۔کنال نے والدین کے درمیان صلح کرانے اور انہیں دوبارہ قریب لانے کی متعدد کوششیں بھی کیں، تاہم گھر کے مسلسل تناؤ کا اس پر گہرا اثر پڑتا رہا۔2025کے دوران والدین کے تعلقات مزید خراب ہونے کا دعویٰ سامنے آیا، جبکہ 2026 کے آغاز میں خاندان میں ایک اور موت کے بعد والد کا اپنے رشتہ داروں سے تعلق مزید مضبوط ہوا۔ اس دوران میاں بیوی کے درمیان اختلافات بڑھتے چلے گئے اور کنال ایک مرتبہ پھر والدین کو ایک ساتھ رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔والدہ کا سوشل میڈیا پر بھی اختلافات کا ذکرکنال کی والدہ سنگیتا نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل پر مختلف پوسٹس اور ویڈیوز کے ذریعے اپنی پریشانیوں کا اظہار کیا تھا، ان پوسٹس میں انہوں نے شوہر کے ساتھ اختلافات، خاندانی تعلقات اور جائیداد سے متعلق اپنے تحفظات کا ذکر کیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے سنگیتا اور مِرلی دھر ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود الگ الگ زندگی گزار رہے تھے۔ کنال دونوں والدین سے گہری وابستگی رکھتا تھا اور ان کی علیحدگی اس کے لیے شدید جذباتی دباؤ کا باعث بن رہی تھی۔’کنال کو آئی فون نہیں، اپنے والدین چاہیے تھے‘دستیاب تفصیلات کے مطابق واقعے کے دوران کنال کی اصل خواہش اپنے والدین کو دوبارہ ایک ساتھ دیکھنا تھی، رپورٹ میں اسے ایسا نوجوان قرار دیا گیا ہے جو اپنی والدہ سے انتہائی قریب تھا اور گھر کے بگڑتے حالات کو سنبھالنے کی مسلسل کوشش کررہا تھا۔یہ واقعہ اس پہلو کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ گھریلو تنازعات کا اثر بچوں اور نوجوانوں پر کس قدر گہرا ہوسکتا ہے۔