ادویات کی فروخت بڑھانے کے لیے فارما کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف اور سہولتیں دینے کے رسم و رواج پر پابندی عائد کی جائے گی، اس حوالے سے سپریم کورٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے اور اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ ’فیڈریشن آف میڈیکل اینڈ سیلز ریپریزنٹیٹو ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ (ایف ایم آر اے آئی) کی جانب سے دائر کی گئی عرضی سے متعلق ہے۔ یہ عرضی 2021 میں دائر کی گئی تھی۔Supreme Court to pronounce judgment today on PIL concerning unethical marketing practices by pharmaceutical companies, including providing “freebies” to doctors to influence prescriptions.Bench: Justices Vikram Nath and Sandeep Mehta pic.twitter.com/L3TiVOlKbR— Bar and Bench (@barandbench) October 8, 2026درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ادویات کی فروخت بڑھانے کے لیے ڈاکٹروں کو تحائف دینے والی دوا ساز کمپنیوں کی جواب دہی طے کی جانی چاہیے اور مارکیٹنگ کے اس غیر اخلاقی طریقۂ کار پر روک لگانے کے لیے سخت قانون بنایا جانا چاہیے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ کئی دوا ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف، بیرون ملک سفر، نقد رقم اور دیگر سہولتیں فراہم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو مہنگی اور بعض اوقات غیر ضروری ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی صحت اور ان کی جیب پر پڑتا ہے۔اس معاملے پر گزشتہ سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے عدالت سے اس مسئلے پر ضابطہ بنانے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ مرکز نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں ایک خاکہ تیار کر رہا ہے۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے۔ اس کمیٹی کا بنیادی کام دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی غلط اور غیر اخلاقی مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے قانونی ضابطے بنانے کے سلسلے میں اپنی تجاویز دینا ہوگا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے گی، جو دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ پریکٹس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تجاویز دے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ کمیٹی ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف یا دیگر فوائد دینے جیسی غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے قانونی دفعات سے متعلق اپنی سفارشات تیار کرے گی۔ کمیٹی اس معاملے پر عام لوگوں، ماہرین اور متعلقہ اداروں کی جانب سے دی گئی تجاویز اور اعتراضات پر بھی غور کرے گی۔2700 روپے کی دوا 27000 میں ہو رہی فروخت، بے تحاشا منافع کمانے پر سپریم کورٹ سخت برہماس کے بعد کمیٹی اپنی حتمی سفارشات مرکزی حکومت کو پیش کرے گی۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو اس حکم پر کی گئی کارروائی کے حوالے سے عدالت میں حلف نامہ داخل کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 29 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس روز مرکزی حکومت کو بتانا ہوگا کہ کمیٹی کی تشکیل اور قواعد بنانے کے سلسلے میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔