’’پیارے ساتھیوں، آج نریندر مودی کی قیادت والی مرکز کی بی جے پی حکومت نے سبھی حدیں پار کر دیں۔ جب عزت مآب کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ الیکشن کمیشن سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے لیے امن کے ساتھ جنتر منتر کی طرف بڑھ رہے تھے، تو انھیں روک دیا گیا اور ان کے ساتھ طاقت کا استعمال کیا گیا۔‘‘ کانگریس لیڈران و کارکنان کے نام یہ پیغام آج کانگریس نے اس وقت جاری کیا، جب انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کو جنتر منتر پہنچنے سے پہلے دہلی پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں نے جبراً حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے سبھی سیاسی لیڈران کو اب چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن کانگریس نے حکومت کی اس کارروائی کو ’یومِ سیاہ‘ قرار دیا ہے۔8 अक्टूबर- भारतीय लोकतंत्र के लिए काला दिवसइस मौके पर कांग्रेस पार्टी देशभर में हल्ला बोलेगी ✊ pic.twitter.com/p6mzS6hRy8— Congress (@INCIndia) October 7, 2026حکومت و انتظامیہ کے رویہ سے کانگریس اس قدر ناراض ہے کہ اس نے 8 اکتوبر، یعنی کل ملک گیر سطح پر احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی نے کانگریس لیڈران و کارکنان کے نام اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’’راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ہمارے سینئر لیڈران اور انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بربریت والا سلوک کیا گیا، ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور انھیں سنگین طور سے زخمی کیا گیا۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور عوام کے منتخب نمائندوں پر یہ حملہ آئین پر حملہ ہے۔ کانگریس آج کے دن کو ہندوستانی جمہوریت کے لیے ’یومِ سیاہ‘ قرار دیتی ہے۔‘‘तानाशाही के खिलाफ लोकतंत्र के योद्धा pic.twitter.com/tmWDGumL4m— Congress (@INCIndia) October 7, 2026اس پیغام میں کانگریس نے اپنی سبھی یونٹس سے ایک خاص اپیل بھی کی ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ ’’سبھی ریاستی کانگریس کمیٹیوں، ضلع کانگریس کمیٹیوں اور بلاک کانگریس کمیٹیوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ کل (جمعرات، 8 اکتوبر) کو ریاستی، ضلع و بلاک سطح پر وسیع احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کریں۔‘‘ ساتھ ہی لکھا ہے کہ ’’کانگریس اس جنگ کو تب تک مستقل جاری رکھے گی، جب تک گیانیش کمار کو ان کے عہدہ سے ہٹا نہیں دیا جاتا اور ہمارے انتخابی نظام کی سالمیت پوری طرح بحال نہیں ہو جاتی۔‘‘