جمعیۃ علماء ہند کا کہنا ہے کہ مراد آباد کے پاکبڑا واقع مصطفیٰ مسجد معاملہ میں مسجد انتظامیہ کمیٹی نے جس طرح فوری قدم اٹھایا، وہ تعریف کے قابل ہے۔ جمعیۃ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کا اس تعلق سے ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ مصطفیٰ مسجد، پاکبڑا، مراد آباد کے سلسلے میں مقدمہ قائم کرنے اور اس کی موثر پیروی میں سب سے اہم کردار خود مسجد انتظامیہ کمیٹی نے ادا کیا ہے۔اپنے بیان میں مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء نے اس قانونی جدوجہد میں تعاون اور رہنمائی فراہم کی ہے، لیکن مسجد انتظامیہ کمیٹی کا کردار اس میں بہت اہم ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس تعلق سے میڈیا میں جو خبر شائع ہوئی ہے، اس میں مسجد انتظامیہ کمیٹی کی کارکردگی کماحقہ واضح نہیں ہوتی۔ جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ ’’ہم مسجد انتظامیہ کمیٹی کے فعال کردار کی تحسین کرتے ہیں اور ساتھ ہی دیگر مساجد کی انتظامیہ کمیٹیوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ مساجد کے تحفظ میں ہر ممکن اقدامی کارروائی کریں۔‘‘واضح ہو کہ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 21 اگست 2026 کو مصطفیٰ مسجد کو ’وجہ بتاؤ نوٹس‘ جاری کیا گیا، جس کے خلاف مسجد کے ذمہ دار ذیشان احمد فرید نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل ششی نندن نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ نوٹس مبہم ہے۔ متنازعہ نوٹس 21 اگست 2026 کو جاری کیا گیا تھا۔ عرضی گزار کو جواب داخل کرنے کے لیے کم از کم 15 دن کا وقت دیا جانا چاہیے تھا، لیکن جواب داخل کرنے کی تاریخ 3 ستمبر 2026 مقرر کی گئی۔ مزید کہا گیا کہ زمین کی تفصیل بھی درست نہیں ہے، کیونکہ نوٹس میں اس رقبے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے جسے منہدم کیا جانا ہے۔اس معاملہ میں 24 ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ میں ’مراد آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ (ایم ڈی اے) کی جانب سے واضح طور پر یقین دہانی کرائی گئی کہ ’ڈیمولیشن آرڈر‘ (انہدامی حکم) صادر کیے بغیر مسجد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ سماعت کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ششی نندن اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ آدتیہ پریہار عدالت میں پیش ہوئے تھے، جبکہ ایڈووکیٹ محمد طاہر حکیم اور ایڈووکیٹ محمد نظام پاشا نے قانونی رہنمائی فراہم کی۔ 24 ستمبر 2026 کو جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس کنال روی سنگھ پر مشتمل الٰہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی تھی۔