حوثی ملیشیا کے سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تازہ حملے ہوئے ہیں۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا کہنا ہے کہ ریاض میں واقع شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مزید حملے کیے گئے ہیں۔اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ ایک "نامعلوم پروجیکٹائل” (مار کرنے والے شے) نے ہوائی اڈے کے پیسنجر ہال نمبر 4 کو نشانہ بنایا جس سے آگ لگ گئی، اور حکام اس صورتحال سے نمٹ رہے ہیں۔ایک الگ اطلاع میں انہوں نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ہوائی اڈے کے قریب ایک کروز میزائل کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا ہے۔سعودی قیادت میں قائم یہ اتحاد 2015 میں اس وقت تشکیل دیا گیا تھا جب عرب ممالک نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے حوثیوں کے اقتدار چھیننے کی کوشش کو روکنے کے لیے مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا تھا۔واضح رہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں 12 افراد جاں بحق، اور 309 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جب کہ متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔سعودی سول ایوی ایشن کے مطابق جاں بحق افراد میں 4 سعودی اور 2 بنگالی شہری شامل ہیں، مرنے والے دیگر افراد کا تعلق امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے ہے۔میزائل حملے کے بعد شاہ خالد ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، حفاظتی اقدامات کے تحت ایئرپورٹ آج رات 9 بجے تک بند رہے گا، نوٹم جاری کر دیا گیا، میزائل حملے میں املاک کو پہنچے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔روئٹرز کے مطابق ہفتے کا یہ حملہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی مملکت پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔ یہ حملہ کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ہوا اور سعودی عرب کے خطرات سے آگاہ کرنے والے نظام نے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا۔ اس ہفتے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس سے پہلے ہونے والے 2 حملوں میں 4 افراد ہلاک ہوئے تھے اور رن وے پر کھڑے سعودی تجارتی طیارے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔