کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دپکے کو اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہ دیے جانے پر ان کی والدہ انیتا دپکے نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اتوار (11 اکتوبر) کو کہا کہ اگر ابھجیت کو ہفتہ کے روز ہی رہا کر دیا جاتا تو وہ آج اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کر پاتے۔ انیتا دپکے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ابھجیت کو کل رہا کر دیا جاتا تو وہ آج اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کر سکتے تھے۔ اب وہ آخری بار ان کا چہرہ بھی نہیں دیکھ پائیں گے۔‘‘Hingoli, Maharashtra: Mother of CJP founder Abhijeet Dipke, Anita Dipke, says, "If Abhijeet had been released yesterday, he could have attended his grandmother's last rites today. Now, he will not even be able to see her face one last time." pic.twitter.com/ETAIYjgpx0— IANS (@ians_india) October 11, 2026ابھجیت دپکے کی ماں نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے کہا کہ ’’انہوں نے ایسا کیا جرم کیا تھا کہ انہیں اپنی دادی کی آخری رسومات میں بھی شرکت نہیں کرنے دی گئی؟ انہوں نے کیا جرم کیا ہے؟ کیا وہ کوئی دہشت گرد یا ملک کے غدار ہیں؟ حکومت تو غلط کام کرنے والوں کو بھی خود ہی رہا کر دیتی ہے۔ میرے بیٹے نے کیا غلط کیا تھا؟ انہیں ہوائی جہاز سے لے جایا گیا، اس کے باوجود انہیں اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔‘‘واضح رہے کہ دپکے کی دادی کا ہفتہ (10 اکتوبر) کو ہنگولی ضلع میں واقع ان کے آبائی گاؤں سنٹوک پمپری میں انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ چند دنوں سے بیمار تھیں۔ اس دوران ابھجیت دپکے دہلی میں احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔ دہلی میں احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے ابھجیت دپکے کو ہوائی اڈے پر طیارے کے اندر سے ہی حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس نے دپکے کے ساتھ سورو داس اور آشوتوش رانکا کو بھی حراست میں لیا تھا۔ اتوار کی صبح تینوں کو رہا کر دیا گیا۔CJP Protests: Abhijeet Dipke, Saurav Das, Ashutosh Ranka released from detention by executive magistrate with conditions imposed. @whattalawyer, @abhijeet_dipke, @AshutoshRanka, @CJP_for_India pic.twitter.com/9pj3Kmr7Am— Bar and Bench (@barandbench) October 11, 2026قابل ذکر ہے کہ دہلی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ابھجیت دپکے، آشوتوش رانکا اور سورو داس کو ہفتہ کے روز بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 126/170 کے تحت احتیاطی طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔ تمام ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں اتوار کو دہلی کینٹ کی ایگزیکٹو مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایک سال تک امن و امان برقرار رکھنے اور اچھے برتاؤ کی ضمانت کے لیے 50000 روپے کا کا ضمانت بانڈ بھرنے کے بعد عدالت نے انہیں رہا کر دیا۔