ریاض ایئرپورٹ پر حملہ: ہندوستان کی شدید مذمت، سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار

Wait 5 sec.

ہندوستان نے اتوار (11 اکتوبر) کو سعودی عرب کی راجدھانی ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے حملے کی سخت مذمت کی۔ اس حملے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہندوستان نے سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ عام شہریوں اور شہری سہولیات کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے حملے پوری طرح ناقابل قبول ہیں اور تشدد کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔We strongly condemn the repeated attacks on Riyadh’s King Khalid International Airport over the past few days, including the dastardly attack on October 10, which have led to loss of lives, injuries and damage to property. We express our condolences to the families of the… pic.twitter.com/LUE7VK91tU— IANS (@ians_india) October 11, 2026سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق ہفتہ (10 اکتوبر) کی دوپہر کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے حملے میں 12 افراد کی جان گئی اور 309 افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا کر حملے کیے جا رہے ہیں۔ سعودی ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 سعودی شہری اور 8 غیر ملکی باشندے شامل ہیں۔ ان میں بنگلہ دیش کے 2 شہری اور امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان کا ایک ایک شہری شامل ہے۔ اتھارٹی نے بتایا کہ زخمیوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے اور بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ پر حوثی باغیوں کا بڑا حملہ، امریکی شہری سمیت 12 افراد ہلاک، 300 سے زائد زخمیہندوستان کی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم گزشتہ چند دنوں سے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہو رہے مسلسل حملوں اور خاص طور پر 10 اکتوبر کو کیے گئے بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ان حملوں میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں، کئی افراد زخمی ہوئے ہیں اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر بار بار کیے جانے والے حملے پوری طرح ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘‘ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ’’ہم سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے وہاں کے عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ خطے میں جلد از جلد امن اور معمول کے حالات بحال ہوں گے۔‘‘