پنسلوانیا: امریکی ریاست پنسلوانیا میں ایک شخص نے ایک گھر میں فائرنگ کر کے 8 افراد کو ہلاک کر دیا، جن میں 2 بچے اور حمل کے آخری مہینوں میں موجود ایک خاتون بھی شامل ہیں، فائرنگ کرنے والے شخص نے بھی گولی مار کر اپنی جان لے لی۔روئٹرز کے مطابق حکام نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس میں جمعے کی سہ پہر ہونے والی فائرنگ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پنسلوانیا کے شہر ایری میں ایک 45 سالہ شخص نے فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک حاملہ خاتون اور دو بچے بھی شامل تھے، اور پھر خود کو بھی گولی مار لی۔ایری کے پولیس چیف رک لوراہ نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے شخص کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، پولیس ابھی تک فائرنگ کے محرک کا تعین نہیں کر سکی۔ انھوں نے بتایا کہ فائرنگ میں ہلاک ہونے والے نو افراد میں سے آٹھ ایک ہی خاندان کے افراد تھے، جب کہ نواں شخص اس خاندان کا ایک دوست تھا۔پولیس چیف کے مطابق پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو چاروں طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں، حملہ آور نے گھر کے باہر اور اندر گھس کر گولیاں برسائی تھیں، پولیس موقع پر پہنچی تو 2 خواتین کی لاشیں سڑک پر پڑی تھیں، گھر کے اندر سے مزید افراد کی لاشیں ملیں۔لوراہ نے بتایا کہ حملہ آور گھر میں داخل ہونے کے بعد باہر نکلا اور دو خواتین کو گولی مار دی۔ 51 اور 37 سالہ یہ خواتین بظاہر ’’شدید پریشانی‘‘ کی حالت میں تھیں اور پڑوسیوں سے مدد لینے کے لیے آگے پیچھے چکر لگا رہی تھیں۔ پولیس کو مشتبہ حملہ آور پیری اسٹریٹ پر واقع گھر کی دوسری منزل پر ملا۔اے آئی نے امریکی پولیس کو بھی دھوکا دے دیا، لیکن کیسے؟حکام کے مطابق گھر کے اندر انھیں پہلی منزل پر 5 اور 1 سال کی عمر کے دو بچوں کی لاشیں ملیں۔ دیگر متاثرین، جن میں 24 اور 44 سال کی دو خواتین اور 19 اور 21 سال کے دو مرد شامل تھے، دوسری منزل اور سیڑھیوں کے حصے میں پائے گئے۔ بندوق بردار بھی وہیں موجود تھا۔ لوراہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والی خواتین میں سے ایک آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔گن وائلنس آرکائیو کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2026 میں اب تک امریکا میں فائرنگ کے اجتماعی واقعات کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ادارہ ایسے واقعے کو اجتماعی فائرنگ قرار دیتا ہے جس میں حملہ آور کو شمار کیے بغیر کم از کم 4 افراد کو گولیاں ماری جائیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، پنسلوانیا میں اجتماعی فائرنگ کے آخری ریکارڈ شدہ واقعات جولائی میں فلاڈیلفیا میں پیش آئے تھے۔