جنتر منتر احتجاج میں جا رہی خاتون کو ٹرین سے حراست میں لیے جانے پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا حکومت کو نوٹس

Wait 5 sec.

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک انتہائی اہم معاملے میں ریاستی حکومت کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ دہلی جا رہی خاتون کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، جسے مبینہ طور پر راستے میں ہی حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ ہی عدالت نے منگل تک خاتون کو بحفاظت اس کے اہل خانہ تک پہنچانے کی ہدایت بھی دی ہے۔The Madhya Pradesh High Court has directed the Police to produce before it a woman who was detained by the police at Itarsi Junction while travelling in a train from Pune to Delhi to participate in the CJP protests against the Chief Election Commissioner.Read more:… pic.twitter.com/O5rMAU5lPx— Live Law (@LiveLawIndia) October 10, 2026معاملہ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہرے سے متعلق ہے۔ پریتی لونڈھے نام کی خاتون چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف دہلی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے گوا ایکسپریس سے سفر کر رہی تھیں۔ الزام ہے کہ اسی دوران نرمداپورم ضلع کے اٹارسی اسٹیشن پر ریلوے پروٹیکشن فورس کے اہلکاروں نے انہیں ٹرین سے اتار لیا اور بعد میں ریاستی پولیس کے حوالے کر دیا۔خاتون کی بہن وشاکھا پرشانت لونڈھے نے اس پورے معاملے کے حوالے سے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں ’ہیبیس کارپس پٹیشن‘ دائر کی تھی۔ اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس وویک جین کی بنچ نے جمعہ کے روز ریاستی حکومت اور متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے واضح الفاظ میں ہدایت دی کہ پریتی لونڈھے کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔الیکشن کمیشن کے ملک گیر ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، تمل ناڈو، کیرالہ اور بنگال میں شدید مخالفتعدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ منگل کے روز ہونے والی سماعت سے قبل بھی خاتون کو عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت کی جانب سے دوسرے فریق کو اس کی پیشگی اطلاع دی جائے۔ اس کے علاوہ بنچ نے ریاستی حکومت کو یہ اجازت بھی دی ہے کہ اگر وہ چاہے تو خاتون کو بغیر کسی پریشانی کے براہ راست اس کے اہل خانہ تک بحفاظت پہنچانے کا انتظام کر سکتی ہے۔ اب اس معاملے میں منگل کے روز ہونے والی اگلی سماعت پر سب کی نظریں لگی ہیں۔