نئی دہلی: دہلی میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر پولیس نے بد ترین کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے سمیت 3000 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔پارٹی رہنما اجنکیا شنڈے کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنر کے استعفے تک احتجاج نہیں رکے گا، فورسز نے طاقت کے ذریعے احتجاج ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ اختتام نہیں نئی شروعات ہے، مودی سرکار عوام سے خوف زدہ ہے۔دھرو راٹھی کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیابھارتی میڈیا کے مطابق پارٹی بانی ابھیجیت دپکے اور دیگر رہنماؤں کو کہاں لے جایا گیا ہے، اس بارے میں پارٹی، ان کے اہل خانہ اور نہ ہی وکلا کو کوئی خبر ہے، ان کی سلامتی پر تشویش ہے۔کارکنوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نوجوانوں سے خوف زدہ ہے، مظاہرین پر تشدد کیا جا رہا ہے، کھانا دیا جا رہا ہے نہ پانی۔ نوجوان انتخابی فہرستوں سے ووٹر غائب کرنے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔’ڈئیر پرائم منسٹر امبانی‘ ایلون مسک کے بیان نے بھارتی سیاست میں ہلچل مچا دیمظاہرین کے مطابق ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کے دوران 13 کروڑ افراد کے نام حذف کیے گئے ہیں، اس سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔