کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو رہا کر دیا گیا

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو دیگر رہنماؤں کے ساتھ رہا کر دیا گیا۔روئٹرز کے مطابق بھارت کی ’کاکروچ‘ احتجاجی تحریک کے رہنما ابھیجیت دپکے کو اتوار کے روز 2 دیگر سینئر رہنماؤں کے ساتھ حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ اطلاع دپکے کے وکیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دی ہے۔اتوار کے روز دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کا دوسرا دن تھا، مظاہرین بھارت کے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک عدالت نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے اور دو دیگر سینئر رہنماؤں کی رہائی کا حکم دیا۔دپکے، جو سی جے پی کے بانی ہیں، اور دیگر رہنماؤں کو ہفتے کے روز اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب ان کا طیارہ دہلی میں اترا، اس تحریک نے وسطی دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں افراد کو جمع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔بھارتی حکام نے ہفتے کے روز دہلی بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا۔ نوجوانوں کی ’کاکروچ‘ تحریک ووٹر فہرستوں پر نظر ثانی کے متنازع عمل کے خلاف ملک گیر مہم میں شدت لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس معاملے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت اور انتخابی حکام کے خلاف غصے کو ہوا دی ہے۔بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری رکھنے کا اعلانرپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس نے 3,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔ اتوار کے روز بھی شہر بھر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکار تعینات رہے، تاہم میٹرو اسٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے اور موبائل انٹرنیٹ سروس بھی بحال ہو گئی ہے۔پولیس کے مطابق، احتجاج کے پہلے روز حراست میں لیے گئے بیش تر افراد کو ہفتے کی رات رہا کر دیا گیا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں اور مودی حکومت کے ناقدین نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے مبینہ بے جا استعمال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے احتجاج سے پہلے اور اس کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ یو این انسانی حقوق کے ترجمان ثمین الکیتان نے کہا ’’ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پُرامن اجتماع کے حق کا مکمل احترام کیا جائے اور اس حق کو پورا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔‘‘ادھر بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کا طرزِعمل ’’منتخب نوعیت کا‘‘ ہے اور اس کا بیان ’’بھارت کے داخلی معاملات میں بلاجواز مداخلت‘‘ کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ووٹر فہرستوں پر نظر ثانی کے معاملے پر استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو غیرمتناسب فائدہ پہنچے گا، جو 12 برس سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں ہے۔