کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بنگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ کل ہم چیف جسٹس آف انڈیا سے بھی ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔ میں نے ایک خط لکھا ہے اور راہل گاندھی نے بھی خط لکھا ہے۔ ہماری ملاقات شام 4 سے 5 بجے کے درمیان طے ہوئی ہے، جس کے دوران ہم انہیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ ہم ان سے کوئی مطالبہ نہیں کر سکتے، لیکن ہم ہاتھ جوڑ کر ان کے سامنے اپنے خدشات رکھیں گے اور ان سے مداخلت کی درخواست کریں گے۔‘‘We will continue our fight. Tomorrow, we are also going to meet the Chief Justice of India. I have written a letter, and Shri @RahulGandhi has also written a letter. We have scheduled a meeting between 4 and 5 PM, during which we will apprise him of the situation. We cannot… pic.twitter.com/1L5PEU3YSo— Mallikarjun Kharge (@kharge) October 11, 2026ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے پورے ملک میں افراتفری پیدا کر دی ہے۔ ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ کل تقریباً 32000 پولیس اہلکاروں اور 7500 سی آر پی ایف اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ یہ خود ظاہر کرتا ہے کہ نوجوانوں کی تحریک سے حکومت کتنی خوف زدہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، سڑکیں بند کر دی گئی تھیں، مواصلاتی ذرائع میں خلل ڈالا گیا، ہوائی اڈے تک رسائی محدود کر دی گئی اور موبائل نیٹورک بند کر دیے گئے۔ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ہندوستان میں جمہوریت پرامن طریقے سے کام کرے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم جمہوریت اور عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔‘‘’12 اکتوبر کو کانگریس، انڈیا اتحاد اور ملک کے نوجوان ایک بار پھر بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتریں گے‘، راہل گاندھی کا اعلانمیڈیا سے بات کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ ’’الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ یہ ایک آزاد ادارہ ہے اور اسے آزادانہ طور پر فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اسے آزادانہ طور پر فیصلے کرنے نہیں دیے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے 2 ارکان نے کھل کر انکشاف کیا ہے کہ کمیشن کس طرح کام کر رہا ہے، اس میں کس قسم کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں اور کمیشن کے ارکان خود اس صورتحال کے بارے میں کیا محسوس کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ووٹ چوری کا سلسلہ جاری رہے۔ اب تک جتنی بھی ووٹ چوری کی گئی ہے، اسی کی بنیاد پر مرکز اور ریاستوں میں حکومتیں بنائی گئی ہیں۔‘‘चुनाव आयोग एक संवैधानिक संस्था है। यह स्वतंत्र संस्था है और इसे स्वतंत्र रूप से निर्णय लेने का अधिकार है। लेकिन उन्हें स्वतंत्र रूप से निर्णय लेने नहीं दिया जा रहा है।चुनाव आयोग के दो सदस्यों ने खुलकर उजागर किया है कि आयोग किस तरह काम कर रहा है, उसमें किस प्रकार की अनियमितताएँ… pic.twitter.com/ADcytDKAAd— Mallikarjun Kharge (@kharge) October 11, 2026ملکارجن کھڑگے کے مطابق ایسا ماحول تیار کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی نے 2023 میں ایک قانون بنایا، جس کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ انہیں ایسی چھوٹ دی گئی، جو ہندوستان کے صدر یا ملک کے چیف جسٹس کو بھی حاصل نہیں ہے۔ لیکن ایک الیکشن کمشنر کو یہ خصوصی تحفظ کیوں دیا گیا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’یہ تحفظ دینے کے بعد ووٹ چوری، ای وی ایم اور انتخابی دھاندلی کا یہ پورا سلسلہ شروع کیا گیا۔ سی ای سی خواہ کتنی بھی غلطیاں کریں، انہیں زندگی بھر ان غلطیوں کے لیے جوابدہی سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ یہ عوام کے ووٹ چھیننے اور جمہوریت کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کی ایک سازش ہے۔ یہی سب کیا جا رہا ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔‘‘