ملک میں حالات سنگین، حکومت خود دہلی میں دہشت مچا رکھی ہے: اشوک گہلوت

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ کی جانب سے اتوار (11 اکتوبر) کو دہلی میں میٹرو اور ریلوے خدمات معمول کے مطابق چلانے اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بحال کرنے سے متعلق دی گئی ہدایت پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں حالات بہت سنگین ہیں۔दिल्ली रवाना होने से पूर्व जयपुर आवास पर प्रेस से बातचीत-सबसे पहले, नवरात्र स्थापना की सभी प्रदेशवासियों और देशवासियों को हार्दिक शुभकामनाएं। मां भगवती की कृपा आप सभी पर बनी रहे।दूसरी ओर, देश के हालात बेहद गंभीर होते जा रहे हैं। आप अंदाजा लगाइए कि इतिहास में पहली बार रविवार को… pic.twitter.com/Ek4vmgmbfk— Ashok Gehlot (@ashokgehlot51) October 11, 2026راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر اشوک گہلوت نے کہا کہ ’’ملک میں حالات انتہائی سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ آج اتوار کو سپریم کورٹ کھل رہا ہے، تو آپ اندازہ لگا لیجیے۔ تاریخ میں پہلی بار اس طرح کے معاملے پر سپریم کورٹ کو سماعت کرنی پڑ رہی ہے کہ میٹرو کیوں بند کی جا رہی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جن وکلاء کو گرفتار کیا گیا تھا، اس معاملے پر بھی سماعت ہو۔ حکومت جس طرح خود افراتفری پھیلا رہی ہے، سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ چاہتی کیا ہے؟ صورتحال ایسی ہو گئی ہے جیسے کوئی کریک ڈاؤن ہو رہا ہو۔ حکومت خود پوری دہلی میں دہشت مچا رکھی ہے۔‘‘اشوک گہلوت نے مزید کہا کہ ’’دہلی میں جگہ جگہ بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور ملک بھر سے آنے والے لوگوں کو پابندیوں اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ سب اسی ملک کے شہری ہیں، باہر کے نہیں۔ جس طرح لیڈروں کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں سے کچھ کو چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ کچھ اب بھی حراست میں ہیں۔ یہ انتہائی تشویش کی بات ہے۔ حکومت کو اپوزیشن سے بات چیت کرنی چاہیے اور انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق ظاہر کیے جانے والے خدشات کو دور کرنا چاہیے۔‘‘ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھیں گے: ملکارجن کھڑگےاشوک گہلوت کا یہ بھی کہنا ہے کہ کپل سبل جیسے بڑے وکیل کہہ رہے ہیں کہ وکلاء کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ملک میں پہلی بار لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کو جو احترام ملنا چاہیے، وہ نہیں مل رہا ہے۔ ملک میں جمہوریت کے تقاضوں کو صحیح طریقے سے پورا نہیں کیا جا رہا ہے۔