ترووننت پورم: کیرالہ اسمبلی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد میں ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے گئے اہل شہریوں کے حق رائے دہی کی بحالی اور الیکشن کمشنروں کے انتخاب کے طریقۂ کار میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے اسے ریاست کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ کیرالہ نے تاریخ رقم کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب کیرالہ اسمبلی نے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظور کی ہے۔جین-زی مظاہرہ: ’گھبرائیے مت، ہم آپ کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں‘، مودی بریگیڈ کو راہل گاندھی کی تنبیہوزیر اعلیٰ کی جانب سے اسمبلی میں پیش کی گئی اس قرارداد کو کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی قیادت والے بائیں بازو کے جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کے ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تین ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ کیرالہ کی 140 رکنی اسمبلی میں یو ڈی ایف کے 102، ایل ڈی ایف کے 35 اور بی جے پی کے تین ارکان ہیں۔قرارداد میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران اہل ووٹروں کے نام خارج کیے جانے اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے اصلاحی اقدامات کیے جائیں جن سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی بھی اہل شہری کو ووٹ دینے کے آئینی حق سے محروم نہ ہونا پڑے۔’گیانیش کمار کی حالت ہم جانتے ہیں، انھیں راتوں کو نیند نہیں آ رہی‘، پریس کانفرنس میں راہل گاندھی کا دعویٰوزیر اعلیٰ ستیسن نے کہا کہ قرارداد کے ذریعے متعلقہ حکام کے سامنے کئی مطالبات رکھے گئے ہیں۔ ان میں ایس آئی آر کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو دور کرنا، غلط طریقے سے ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے اہل شہریوں کے حق رائے دہی کو بحال کرنا، چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کرنا اور الیکشن کمشنروں کے انتخاب کے لیے قائم کمیٹی کے طریقۂ کار میں اصلاحات کرنا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، اہل شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری سے متعلق خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ستیسن کے مطابق، ووٹ دینے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے اور کسی بھی ادارے کو شہریوں کے آئینی حقوق کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کیرالہ حکومت کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ حق رائے دہی کا تحفظ اور آئین کا احترام ضروری ہے۔ستیسن کے مطابق، ووٹ دینے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے اور کسی بھی ادارے کو شہریوں کے آئینی حقوق کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کیرالہ حکومت کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ حق رائے دہی کا تحفظ اور آئین کا احترام ضروری ہے۔دوسری جانب، قرارداد منظور ہونے کے فوراً بعد اسمبلی احاطے کے باہر احتجاج کرنے والے بی جے پی حامیوں نے قرارداد کی ایک نقل نذرِ آتش کر دی۔