بیجنگ: چین کی جانب سے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان چینی وزارت خارجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سعودی ایئرپورٹس پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور حوثی تنازع میں شدت پر گہری تشویش ہے، چین شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق فریقین کشیدگی بڑھنے والے اقدامات سے گریزکریں، اختلافات مذاکرات سے حل کریں، جلد خطے میں امن یقینی بنایا جائے۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد ائیرپورٹ پر حملوں اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر متعدد خلیجی اور بین الاقوامی ائیرلائنز نے ریاض کے لیے اپنا فلائٹ آپریشن جزوی یا مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔صورتحال کے تناظر میں سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی بندش میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے، اور نئے نوٹم کے مطابق ائیرپورٹ آج رات 12 بجے تک بند رہے گا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیع ریڈار اور کمیونیکیشن نظام کے تفصیلی جائزے کے لیے کی گئی ہے، جبکہ دمام ائیرپورٹ کا فلائٹ آپریشن 6 گھنٹے کی بندش کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔ریاض ائیرپورٹ کی بندش اور سکیورٹی صورتحال کے باعث بین الاقوامی ائیرلائنز نے اپنی پروازیں عارضی طور پر روک دی ہیں۔ لفتھانزا گروپ نے 16 اکتوبر، ائیر لنکا نے 18، اکاسا ائیر نے 13، اور ائیر انڈیا و ائیر انڈیا ایکسپریس نے 15 اکتوبر تک ریاض کے لیے پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔سعودی عرب یمن مذاکرات، ایران نے سہولت کاری پر آمادگی ظاہر کر دیپروازیں منسوخ یا معطل کرنے والی دیگر بڑی ائیر لائنز میں اتحاد ائیر ویز، فلائی دبئی، امارات ائیرلائنز، ائیر عربیہ، کویت ائیر ویز، ترکش ائیر لائنز، انڈیگو، اور پی آئی اے شامل ہیں۔