انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کو جنتر منتر پہنچنے سے دہلی پولیس نے روک دیا، جس کے بعد کانگریس سمیت انڈیا بلاک کی دیگر شریک پارٹیوں کے لیڈران نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ تلنگانہ اور کیرالہ کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اس معاملہ میں اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی ہے مودی حکومت پر آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی انتخاب جیتنے کے لیے الیکشن کمیشن کا استعمال کر رہے ہیں، اس لیے گیانیش کمار کے خلاف پورا ملک کھڑا ہے اور ان کا استعفیٰ مانگ رہا ہے۔‘‘नरेंद्र मोदी चुनाव जीतने के लिए चुनाव आयोग का इस्तेमाल कर रहे हैं, इसलिए ज्ञानेश कुमार के खिलाफ पूरा देश खड़ा है और उनका इस्तीफा मांग रहा है। लेकिन जो लोग लोकतंत्र बचाने की कोशिश कर रहे हैं, अमित शाह की पुलिस उन्हें ही गिरफ्तार कर रही है। लोकसभा और राज्यसभा के सदस्यों, खरगे… pic.twitter.com/ij3fRvFo4d— Congress (@INCIndia) October 7, 2026ریونت ریڈی نے پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی نشانے پر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ جمہوریت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، امت شاہ کی پولیس انھیں گرفتار کر رہی ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین، کھڑگے جی، راہل جی اور پرینکا جی کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ملک کی عوام نریندر مودی کو معاف نہیں کرے گی۔‘‘ انھوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ ’’یہ تحریک اب رکنے والی نہیں ہے۔ ہم سڑک سے پارلیمنٹ تک آواز اٹھائیں گے۔‘‘’میں سبھی سے کہنا چاہتی ہوں کہ اس حکومت کو ہٹاؤ‘، حراست میں لیے جانے کے بعد پرینکا کا تلخ تبصرہکیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو اس جگہ نہیں جانے دیا گیا، جو خاص طور سے مظاہروں اور دھرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنتر منتر جمہوری احتجاج کے لیے مقرر کی گئی جگہ ہے۔ اس کے باوجود قائد حزب اختلاف کو پرامن احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انھیں دہلی پولیس نے روکا، راستہ بند کر دیا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آزاد اور منصفانہ انتخابات کی بنیاد ووٹر لسٹ ہے۔ آج ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کا پورا عمل پٹری سے اتر گیا ہے اور کروڑوں ووٹرز کے نام ووٹر لسٹس سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔‘‘Jantar Mantar is a designated venue for democratic protests. Yet, the Leader of Opposition was not allowed to hold a peaceful protest.He was stopped, blocked and manhandled by the Delhi Police.The very foundation of a free and fair election is the electoral roll. Today, the… pic.twitter.com/tQUvlBJL0m— Congress (@INCIndia) October 7, 2026مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے درمیان سانٹھ گانٹھ ہے، اسی لیے انھیں (چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو) اب بھی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو جمہوری ہندوستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔‘‘’آج یومِ سیاہ!‘ گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرہ کی اجازت نہ ملنے سے کانگریس ناراض، کل ملک گیر احتجاج کا اعلانقابل ذکر ہے کہ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے کئی اراکین پارلیمنٹ کو دہلی پولیس نے آج جنتر منتر جا کر مظاہرہ کرنے سے روک دیا۔ مظاہرین کو دہلی پولیس کے ذریعہ حراست میں لے لیا گیا اور بوقت شب انھیں چھوڑا گیا۔ حراست سے رہائی ملنے کے بعد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی، جس میں انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے ملی بھرپور حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’میں انڈیا بلاک کے ان سبھی اراکین پارلیمنٹ کا شکرگزار ہوں، جو ہماری جمہوریت کی حفاظت کے لیے پارلیمنٹ میں، سڑکوں پر اور آج جنتر منتر کے پاس مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔‘‘I am thankful to every INDIA alliance MP standing firm in defence of our democracy - in Parliament, outside on the streets, and today near Jantar Mantar.They can stop a march. They can refuse a meeting. But they cannot stop the will of our people. Narendra Modi, Amit Shah,…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 7, 2026راہل گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انھوں نے انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’وہ (مودی حکومت) مارچ روک سکتے ہیں، وہ میٹنگ کرنے سے منع کر سکتے ہیں، لیکن وہ ہمارے لوگوں کے عزائم کو نہیں روک سکتے۔ نریندر مودی، امت شاہ، گیانیش کمار اور پورے سسٹم کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘‘ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی حراست میں لیے جانے کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے عہدہ سے ہٹائے جانے تک تحریک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ آئین کی حفاظت کے لیے اگر جان دینے کی ضرورت پڑی، تو اس سے بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گی۔