ماسکو : روس کے علاقے سائبیریا میں گزشتہ روز 28 سالہ خاتون لیب ورکر کی موت نے کئی سوالات کھڑے کردیے، 200 افراد کو قرنطینہ میں کیوں رکھا گیا؟تحقیقی ادارے کی خاتون ملازمہ کی طاعون سے مشتبہ ہلاکت کے بعد تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاہم روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ خاتون کی موت طاعون سے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور صورتِحال قابو میں ہے وبا پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں۔روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق روسی محکمہ صحت کے نگران ادارے نے کہا ہے کہ سائبیریا میں طاعون کے تحقیقی ادارے کی 28 سالہ خاتون ملازمہ کی موت کے باوجود علاقے میں کسی وبا کے پھیلنے کا خطرہ نہیں، تاہم عالمی ادارۂ صحت نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔روسی حکام کے مطابق خاتون لیبارٹری ورکر داریا شپلووا جمعے کے روز نمونیا کے باعث انتقال کرگئیں، تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نمونیا کی اصل وجہ کیا تھی۔ واقعے کے بعد ابتدائی طور پر تقریباً 200 افراد کو احتیاطی طور پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔عالمی سطح پر اس واقعے کو اس لیے بھی غیر معمولی توجہ ملی کہ کووڈ 19 وبا کے بعد نامعلوم وجہ سے ہونے والے نمونیا کے کیسز پر صحت کے عالمی ادارے خاص طور پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دستیاب موجودہ معلومات کی بنیاد پر روس میں پیش آنے والے واقعے سے عام آبادی کو لاحق خطرہ کم ہے۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تقریباً 5 ہزار لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے، تاہم کسی خطرناک جرثومے کا سراغ نہیں ملا۔متعلقہ حکام نے بتایا کہ داریا شپلووا کو ویکسین بھی لگائی گئی تھی، جس کے باعث وہ ان خطرناک بیماریوں کے خلاف محفوظ تھیں جن پر وہ تحقیقی کام کررہی تھیں۔تاہم روس نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ آخر وہ کس وجہ سے نمونیا کا شکار ہوئیں اور ان کی موت کی حتمی وجہ کیا تھی۔روس میں مہلک وبائی مرض ’’طاعون‘‘ پھیلنے کا خدشہ، مبینہ متاثرہ خاتون ہلاک