دہلی میں احتجاج کرنا مشکل، رام لیلا میدان اس سال صرف تین دن دستیاب، ایک دن کی بکنگ پر 1.21 لاکھ روپے خرچ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت بند کیے جانے کے بعد مظاہرین کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ احتجاج کے لیے متبادل مقامات میں شامل رام لیلا میدان میں اگلے ڈھائی ماہ تک جگہ دستیاب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایک دن احتجاج کرنے کے لیے بکنگ پر 1.21 لاکھ روپے تک خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں مختلف تنظیموں اور شہری گروپوں کے لیے احتجاج کرنا مہنگا اور مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔حکام کے مطابق، 12 ایکڑ میں پھیلے رام لیلا میدان میں تقریباً 50 ہزار افراد کے جمع ہونے کی گنجائش ہے، لیکن اس سال اب صرف 29، 30 اور 31 دسمبر کو ہی اس کی بکنگ کرائی جا سکتی ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ میدان کی یومیہ بکنگ فیس 50 ہزار روپے ہے، جب کہ 55 ہزار روپے بطور ضمانتی رقم جمع کرانے ہوتے ہیں۔ یہ رقم بعد میں واپس کردی جاتی ہے۔ ٹیکس سمیت ایک دن کی بکنگ کا ابتدائی خرچ تقریباً 1.21 لاکھ روپے ہے۔تاہم، دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے حکام نے بتایا کہ میدان کا ایک چھوٹا حصہ احتجاج اور جلسوں کے لیے مفت دستیاب ہے، لیکن وہاں صرف 150 افراد جمع ہو سکتے ہیں۔ میدان کی بکنگ ایم سی ڈی کے محکمہ باغبانی کے ذریعے ہوتی ہے۔ درخواست منظور کرنے سے پہلے دہلی پولیس سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا ضروری ہے۔دہلی میں مبینہ ووٹ چوری اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے درمیان دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار نے 11 اکتوبر کو ایک مستقل حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت ختم کردی گئی۔ اس کے ساتھ ہی رام لیلا میدان، براڑی میدان اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی (سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ) میدان کو احتجاج کے لیے متبادل مقامات قرار دیا گیا۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ جنتر منتر پر احتجاج کے لیے کوئی فیس ادا نہیں کرنی پڑتی تھی، جب کہ رام لیلا میدان میں بھاری رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔ ایک افسر کے مطابق، اگر میدان بغیر فیس کے فراہم کیا جائے تو میونسپل کارپوریشن کو روزانہ کم از کم 50 ہزار روپے یا اس سے زیادہ کا نقصان ہوگا۔ حکام نے یہ بھی بتایا کہ دسہرہ اور دیوالی جیسے تہواروں کے پیش نظر آئندہ ہفتوں کے لیے میدان پہلے ہی مختلف تقریبات کے لیے بک کیا جا چکا ہے۔دہلی کا رام لیلا میدان تاریخی اور سیاسی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ برطانوی دور میں یہ میدان اجمیری گیٹ سے آگے تک پھیلا ہوا تھا اور موجودہ کملا مارکیٹ بھی اسی علاقے کا حصہ تھی۔ حکام کے مطابق، 1930 تک یہاں ایک تالاب تھا، جسے بھر کر ہموار کیا گیا تاکہ رام لیلا کا انعقاد کیا جا سکے۔ یہ روایت 1932 میں شروع ہوئی اور آج بھی جاری ہے۔آزادی کے بعد 1951 میں اس علاقے کو پاکستان سے آنے والے پناہ گزینوں کے روزگار کے لیے ترقی دی گئی۔ بعد میں یہ میدان ملک کی سیاست کا اہم مرکز بن گیا۔ 1952 میں بھارتیہ جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی نے یہاں جموں و کشمیر کے ہندوستان میں انضمام کے مطالبے پر ستیہ گرہ شروع کیا۔ سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 1956 اور 1957 میں یہاں بڑے جلسوں سے خطاب کیا۔1971 کی جنگ میں پاکستان پر ہندوستان کی فتح کے بعد اندرا گاندھی نے بھی یہاں ریلی سے خطاب کیا۔ 25 جون 1975 کو ایمرجنسی کے اعلان کے دن جے پرکاش نارائن اور اٹل بہاری واجپئی نے اسی میدان میں جلسے سے خطاب کیا تھا۔ حالیہ تاریخ میں 2013 میں اروند کیجریوال نے یہاں دہلی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ اب جنتر منتر پر پابندی اور رام لیلا میدان کی محدود دستیابی نے احتجاج کے لیے متبادل مقامات کے انتظامات اور ان کی استطاعت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔