واشنگٹن(10 اکتوبر 2026): آئی سی سی کے صدر نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانونی نظام پر براہِ راست ایک حملہ قرار دیا ہے۔بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے صدر اکانے نے امریکی پابندیوں کے شدید پیشِ نظر عالمی برادری اور تمام رکن ممالک سے زور دار مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدالت کی بھرپور حمایت کریں اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا تعاون ہر صورت جاری رکھیں۔آئی سی سی کے صدر نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانونی نظام پر براہِ راست ایک حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت تمام بیرونی سیاسی دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود آزادانہ اور مکمل غیر جانب دارانہ طور پر اپنا قانونی کام جاری رکھے گی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کی پابندیوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مظالم کا شکار ہونے والے معصوم متاثرین بروقت اور حقیقی انصاف سے محروم ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی عالمی عدالتِ فوجداری پر عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی انصاف کے نظام کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈز، جاپان، کینیڈا، جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک سمیت دنیا کے کئی اہم ممالک نے بھی ان امریکی پابندیوں پر سخت مخالفت اور گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے، اور عالمی اداروں کے تحفظ پر زور دیا ہے۔