امریکی ویزا پابندی کے بعد بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو شدید جھٹکا

Wait 5 sec.

نئی دہلی (10 اکتوبر 2026): امریکا کی جانب سے بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے گرین کارڈ اور ایچ ون بی ویزا پروگرام معطل کیے جانے کے سبب بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو شدید جھٹکا لگا ہے۔اس سلسلے میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکا کے ایچ ون بی ویزا پروگرام پر اپنا انحصار نمایاں طور پر کم کردیا ہے۔متاثرہ کمپنیوں میں آئی ٹی شعبے کے بڑے نام مائیکروسافٹ، کاگنیزینٹ، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، وِپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور کیپ جیمِنائی ودیگر شامل ہیں۔اس حوالے سے بھارتی آئی ٹی انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ناسکوم نے کہا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکا میں مقامی بھرتیوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے غیرملکی کارکنوں کے لیے ایچ ون بی ویزا روٹ پر انحصار کم ہوا ہے۔امریکی حکومت کی جانب سے پرماننٹ لیبر سرٹیفکیشن پروگرام معطل کرنے کا اقدام مقامی افراد کے مقابلے میں غیرملکی کارکنوں کی تعداد کم کرنے اور ان کے مستقل رہائش اور شہریت کے راستے محدود کرنے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔بھارتی حکومت کے امریکی اقدام پر تحفظاترائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور عزائم کو آگے بڑھنے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔وزارت خارجہ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ان بیانات پر بھی اعتراض کیا جن میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بعض کمپنیاں پی ای آر ایم پروگرام کے ذریعے امریکی ملازمین کی جگہ غیر ملکی کارکنوں کو لا رہی ہیں۔بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا میں کام کرنے والے بھارتی پیشہ ور افراد انتہائی تعلیم یافتہ اور ہنرمند ہیں اور امریکی معیشت اور جدت کے نظام میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔آئی سی آئی سی آئی سیکیورٹیز کے مطابق اکتوبر 2024 سے ستمبر 2025 کے دوران امریکا میں دائر کی گئی پی ای آر ایم درخواستوں میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کا حصہ 2 فیصد سے بھی کم تھا۔بروکریج کے مطابق اس پیش رفت سے بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے حصص پر قلیل سے درمیانی مدت میں منفی اثر پڑسکتا ہے، تاہم فوری طور پر کمپنیوں کی آمدنی پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان کم ہے۔ البتہ امریکا میں موجود بھارتی کارکنوں کے مستقل رہائش سے متعلق غیریقینی صورتحال مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ٹی سی ایس سمیت بڑی کمپنیوں پر اثراتناسکوم کے مطابق حالیہ برسوں میں بھارتی آئی ٹی کمپنیوں نے ایچ ون بی ویزوں پر انحصار خاصا کم کیا ہے اور امریکا میں مقامی ملازمین کی بھرتی میں اضافہ کیا ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ نسبتاً کم تعداد میں ایچ ون بی ویزا رکھنے والے کارکن پی ای آر ایم کے ذریعے مستقل رہائش حاصل کرنے کے مرحلے تک پہنچتے ہیں۔بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی سروسز برآمد کنندہ کمپنی ٹی سی ایس نے بھی کہا ہے کہ اسے پی ای آر ایم پروگرام کی معطلی سے اپنی افرادی قوت کی حکمت عملی یا صارفین سے متعلق سرگرمیوں پر اثر پڑنے کی توقع نہیں۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران اس کی پی ای آر ایم درخواستیں سنگل ڈیجٹ میں رہی ہیں۔بھارتی آئی ٹی شعبہ دباؤ میںبھارتی آئی ٹی صنعت کو ایک ایسے وقت میں نئی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث عالمی ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سروسز کے شعبے میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکا پہلے ہی ایچ ون بی ویزا پروگرام کی فیس میں اضافہ کرچکا ہے، جبکہ بھارتی آئی ٹی صنعت کا حجم تقریباً 315 ارب ڈالر ہے اور اس کی آمدنی کا بڑا حصہ امریکی مارکیٹ سے وابستہ ہے۔واضح رہے کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام امریکی کمپنیوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ تکنیکی مہارت کے حامل غیر ملکی ورکرز کو عارضی طور پر امریکا میں ملازمت کے لیے بلا سکیں۔امریکا کا بڑا اقدام: ایچ ون بی ویزا پروگرام معطل کرنے کا فیصلہ