چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف آج پھر میدان میں اترے گا اپوزیشن، صدر مرمو سے ملاقات کی تیاری

Wait 5 sec.

ایس آئی آر سے متعلق مسائل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ پر اپوزیشن کی مہم جاری ہے۔ گزشتہ 3 دنوں سے انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کا احتجاج جارحانہ رخ اختیار کر چکا ہے، اور آج پھر اپوزیشن لیڈران میدان میں اترنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر انڈیا اتحاد آج چوتھے دن بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کی تیاری میں ہے۔ انڈیا اتحاد کے لیڈران آج صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ ابھی تک راشٹرپتی بھون سے ملاقات کا کوئی وقت طے نہیں ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات کے لیے انڈیا اتحاد کے 10 لیڈران کا ایک وفد راشٹرپتی بھون جا سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی اس وفد میں شامل ہوں، کیونکہ وہ دہلی پہنچ چکی ہیں۔ یہ خبر سامنے آئی ہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کو فون کر کے دہلی بلایا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کرنے سے پہلے انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کی دوپہر 3 بجے پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں میٹنگ ہوگی، جہاں آئندہ کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ذرائع کے حوالہ سے میڈیا رپورٹس میں مطلع کیا جا رہا ہے کہ انڈیا اتحاد نے صدر دروپدی مرمو سے ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے اور اگر انہیں وقت نہیں ملتا ہے تو تمام متبادل کھلے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے سیوا تیرتھ، راشٹرپتی بھون، نائب صدر کی رہائش، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی رہائش ممکنہ مقامات ہو سکتی ہیں۔اپوزیشن کا یہ جارحانہ رخ انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے بعد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 23 ستمبر کی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ طور پر اعتراضات درج کرائے تھے۔ یہ اعتراضات بیشتر ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق فیصلوں اور احکامات کے بارے میں تھے۔ اس رپورٹ کے بعد سے ہی انڈیا بلاک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ انڈیا بلاک کی گزشتہ دنوں ہوئی میٹنگ میں 8 دنوں پر مشتمل احتجاج کا ایک خاکہ بھی پیش کیا گیا تھا، جس کے مطابق روزانہ احتجاج کا سلسلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے ’8 دن‘2 اکتوبر: دہلی میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کا احتجاج3 اکتوبر: جنتر منتر پر انڈیا بلاک کا زبردست احتجاج4 اکتوبر: دہلی میں گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ5 اکتوبر: ممبئی میں ٹھاکرے برادران کا مارچ6 اکتوبر: انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کا مارچ۔ پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دفتر تک مارچ اور آکاشوانی بھون میں دھرنا۔7 اکتوبر: کانگریس کی جانب سے ظہرانے کا اہتمام۔ ظہرانے کے بعد جنتر منتر جانے والے راستے پر احتجاج۔8 اکتوبر: دہلی میں ظہرانے کے بعد راج گھاٹ پر مظاہرہ۔ پٹنہ، لکھنؤ سمیت کئی شہروں میں احتجاج۔9 اکتوبر: صدر سے ملاقات کی کوشش اور انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ۔اپوزیشن کے 5 مطالباتچیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیںووٹر لسٹ میں شفافیت یقینی بنائی جائےخصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے پہلے والی ووٹر لسٹ استعمال کی جائےای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے انتخابات کرائے جائیںالیکشن کمیشن کی جواب دہی طے کی جائے