فلم ’کالا ہرن‘ تنازعہ: دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کے نام جاری کیا نوٹس، 4 ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت

Wait 5 sec.

دہلی ہائی کورٹ نے مشہور و معروف اداکار سلمان خان کو فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لگیسی‘ کے فلمساز کی عرضی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ فلمساز نے سلمان خان کے ذریعہ فلم پر پابندی لگانے کے لیے داخل عرضی کو علاقائی دائرۂ اختیار کے فقدان میں واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔Salman Khan's 'Kala Hiran' Suit: Delhi High Court Issues Notice On Producer Amit Jani's Jurisdiction Challenge. Read more: https://t.co/ona1cwqCxP pic.twitter.com/WlX5PenyPL— LiveLaw Biz (@LivelawBiz) October 9, 2026جسٹس انوپ جئے رام بھمبھانی کی بنچ نے فلم ’کالا ہرن‘ معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے سلمان خان کو 4 ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کا وقت دیا ہے۔ اس معاملہ پر آئندہ سماعت 16 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ ’کالا ہرن‘ کے فلمساز امت جانی نے اپنی عرضی میں دلیل دی ہے کہ سلمان خان کے ذریعہ داخل عرضی میں علاقائی دائرۂ اختیار کا فقدان ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اداکار پہلے سے ہی شخصی حقوق سے متعلق ایک دیگر مقدمے میں اسی فلم کو لے کر راحت کا مطالبہ کر چکے ہیں اور نیا مقدمہ یکساں ایشو پر مبنی ہے۔دراصل سلمان خان نے اس سے قبل فلم اور اس کی تشہیر سے متعلق مواد پر روک لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت کا رخ کیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ فلم ان کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے اور 1998 کے کالا ہرن شکار معاملہ سے متاثر ہے۔ جولائی میں عدالت نے فلم کے ٹیزر اور متعلقہ تشہیری مواد کو ہٹانے کا عبوری حکم بھی جاری کیا تھا۔ عدالت نے دونوں فریقین کو اپنی دلیل پیش کرنے کا موقع دیتے ہوئے فلمساز کی عرضی پر سلمان خان سے جواب مانگا ہے۔