واشنگٹن(9 اکتوبر 2026): مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بوٹس کی مدد سے گانوں کے جعلی اسٹریمز بنا کر کروڑوں روپے کمانے کے پہلے مقدمے میں امریکی عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم کو 18 ماہ قید اور 8 ملین ڈالر سے زائد رقم ضبط کرنے کی سزا سنا دی ہے۔رپورٹس کے مطابق نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ موسیقار مائیکل سمتھ نے اے آئی کی مدد سے لاکھوں گانے تیار کیے اور ہزاروں خودکار اکاؤنٹس (بوٹس) کے ذریعے اربوں جعلی اسٹریمز چلائے۔اس گھپلوں کے ذریعے ملزم نے اسٹریمنگ کمپنیوں سے رائلٹی کی مد میں 80 لاکھ 91 ہزار ڈالر ( پاکستانی دو ارب روپے سے زائد ) سے زیادہ کی رقم حاصل کی۔مین ہٹن کی وفاقی عدالت کے جج جان جی کوئٹل نے ملزم کو قید کے ساتھ ساتھ دو سال کی نگرانی (سروایڈڈ ریلیز) اور آٹھ ملین ڈالر سے زائد کی رقم ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ ملزم نے رواں سال مارچ میں تارکی فراڈ کی سازش کے ایک جرم کا اعتراف کیا تھا۔اے آئی کی ترقی : ٹیکنالوجی یا تباہی؟ خطرے کی گھنٹی بج گئیتفتیشی اداروں کے مطابق یہ مکروہ اسکیم 2017 سے 2024 کے درمیان چلائی گئی، جس میں ایک وقت میں 10000 تک بوٹس اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے تھے۔ملزم اسپاٹفائی، ایپل میوزک، ایمیزون میوزک اور یوٹیوب میوزک جیسے پلیٹ فارمز پر جعلی ای میلز اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے اکاؤنٹس بناتا اور پھر سافٹ ویئر کی مدد سے اپنے کنٹرول والے گانے مسلسل پلے کرتا تھا۔جب یہ آپریشن بڑھا تو ملزم نے اے آئی کا سہارا لے کر لاکھوں گانے جنریٹ کیے تاکہ فراڈ کا دائرہ اتنا پھیل جائے کہ پلیٹ فارمز کے اینٹی فراڈ سسٹمز کی نظر میں نہ آ سکے۔اپریل 2023 میں ملزم کے بوٹس نے اکیلے یوٹیوب میوزک پر 80.90 ملین اسٹریمز جنریٹ کیے، جبکہ اسی ماہ مشہور گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے پورے کیٹلاگ کے اسٹریمز بھی اس سے کم یعنی 9.3 ملین تھے۔عدالت میں استغاثہ نے واضح کیا کہ مقدمہ خود اے آئی سے گانے بنانے یا تقسیم کرنے کے خلاف نہیں تھا، بلکہ جعلی اکاؤنٹس اور خودکار اسٹریمز کے ذریعے ناظرین کو دھوکہ دینے اور ناجائز طور پر رائلٹی حاصل کرنے پر قائم کیا گیا تھا۔اس فراڈ کی وجہ سے اصل فنکاروں اور رائٹس ہولڈرز کے حقوق متاثر ہوئے کیونکہ ریونیو کا ایک بڑا حصہ غلط طریقوں سے ملزم کے پاس چلا گیا۔امریکی ریکارڈنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن اور دیگر فریقین نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹریمنگ فراڈ تخلیق کاروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، اور یہ مقدمہ مستقبل میں اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لیے ایک اہم مثال بنے گا۔