دہلی (9 اکتوبر 2026): بھارت میں 13 کروڑ سے زائد شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہونے پر اب عالمی میڈیا بھی سوال اٹھا رہا ہے۔خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والے بھارت میں 13 کروڑ سے زائد شہریوں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے، جس پر پورے بھارت میں جین زی اور اپوزیشن جماعتیں سراپا احتجاج ہیں۔تاہم اب یہ معاملہ عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بن رہا ہے اور دنیا بھر کا میڈیا اس پر سوال اٹھا رہا ہے۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی چیف الیکشن کمیشن نے 13 کروڑ سے زائد نام ووٹر لسٹ سے نکالے۔ یہ تعداد میکسیکو کی پوری آبادی سے بھی زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اور ناقدین کا الزام ہے کہ اس عمل سے خصوصاً مسلمان ووٹرز متاثر ہوئے اور نریندر مودی کی بی جے پی کو مزید فائدہ پہنچ سکتا ہے۔بھارت کی اپوزیشن ہو یا جین زی کی قیادت میں کاکروچ جنتا پارٹی، دونوں اسی حوالے سے چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بھارتی دارالحکومت نئی دہلی، ممبئی اور بنگلورو میں احتجاج کے بعد اب کل ایک بار پھر نئی دہلی کے جنتر منتر پر بڑے مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے۔